Thursday, 10 September 2026

خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی

 خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی

ہر گلی مصر کا بازار بھلا کیا ہو گی

اب تیری یاد بھی اک بجھتے دیے کی لو ہے

دل میں پھر روشنی بیدار بھلا کیا ہو گی

ٹھہرے پانی کا بھی ہم ساتھ نہیں دے سکتے

چڑھتے دریاؤں کی رفتار بھلا کیا ہو گی

اس کی ٹھنڈک کا مزا اور ہی شے ہے یارو

چاندنی سایۂ دیوار بھلا کیا ہو گی

اور بے لطفئ دوراں کا بدل کیا ہو گا

اور تسکینِ دلِ زار بھلا کیا ہو گی

تیرے ہی شہر میں سودائی ہوا پھرتا ہوں

اس سے بڑھ کر بھی تِری ہار بھلا کیا ہو گی


نذیر ناجی

No comments:

Post a Comment