خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی
ہر گلی مصر کا بازار بھلا کیا ہو گی
اب تیری یاد بھی اک بجھتے دیے کی لو ہے
دل میں پھر روشنی بیدار بھلا کیا ہو گی
ٹھہرے پانی کا بھی ہم ساتھ نہیں دے سکتے
چڑھتے دریاؤں کی رفتار بھلا کیا ہو گی
اس کی ٹھنڈک کا مزا اور ہی شے ہے یارو
چاندنی سایۂ دیوار بھلا کیا ہو گی
اور بے لطفئ دوراں کا بدل کیا ہو گا
اور تسکینِ دلِ زار بھلا کیا ہو گی
تیرے ہی شہر میں سودائی ہوا پھرتا ہوں
اس سے بڑھ کر بھی تِری ہار بھلا کیا ہو گی
نذیر ناجی
No comments:
Post a Comment