صندل جیسی دعا
کوئی بتلائے
اس سر زمین کا مقدر ابھی تک
کس لیے خاک و خوں سے ہے آلودہ آخر
کس لیے روز اٹھتے ہیں تازہ جنازے وہاں پر
کس لیے غم کی دیوار گرتی نہیں
صندل جیسی دعا
کوئی بتلائے
اس سر زمین کا مقدر ابھی تک
کس لیے خاک و خوں سے ہے آلودہ آخر
کس لیے روز اٹھتے ہیں تازہ جنازے وہاں پر
کس لیے غم کی دیوار گرتی نہیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
دین و دنیا کی ہدایت آپﷺ کے دم سے ملی
زندگی کو اصل راحت آپؐ کے دم سے ملی
دائرے میں کر رہی تھی یہ زمیں گردش فقط
پھر زمیں کو ایک وسعت آپؐ کے دم سے ملی
مسکراہٹ سے چمک اٹھے تھے مہر و ماہ بھی
روشنی یہ بے نہایت آپؐ کے دم سے ملی
ریت کا پھیلا سمندر، دور تک
آنکھ میں تھا ایک منظر، دور تک
رات کی خاموش سی وہ رہ گزر
خود کو دیکھا اس میں کھو کر، دور تک
بعد اس کے میرے دل کے ساتھ ساتھ
بھیگا بھیگا سا تھا منظر، دور تک
صندل جیسی دعا (فلسطین کے لیے)
کوئی بتلائے
اس سر زمین کا مقدر ابھی تک
کس لیے خاک و خوں سے ہے آلودہ آخر
کس لیے روز اٹھتے ہیں تازہ جنازے وہاں پر
کس لیے غم کی دیوار گرتی نہیں
سب سلسلے جنوں کے خطرناک ہو گئے
بھڑکی وہ آگ عشق میں بس خاک ہو گئے
ساحل کی چاہ میں تو کنارے کھڑے کھڑے
ہم وقت کے سراب میں تیراک ہو گئے
میری کتاب کے جو ورق تھے، صدا بنے
پھر دیکھتے ہی دیکھتے بے باک ہو گئے