Showing posts with label شمع افروز. Show all posts
Showing posts with label شمع افروز. Show all posts

Tuesday, 8 March 2022

صندل جیسی دعا

 صندل جیسی دعا


کوئی بتلائے

اس سر زمین کا مقدر ابھی تک

کس لیے خاک و خوں سے ہے آلودہ آخر

کس لیے روز اٹھتے ہیں تازہ جنازے وہاں پر

کس لیے غم کی دیوار گرتی نہیں

Wednesday, 22 December 2021

دین و دنیا کی ہدایت آپ کے دم سے ملی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


دین و دنیا کی ہدایت آپﷺ کے دم سے ملی

زندگی کو اصل راحت آپؐ کے دم سے ملی

دائرے میں کر رہی تھی یہ زمیں گردش فقط

پھر زمیں کو ایک وسعت آپؐ کے دم سے ملی

مسکراہٹ سے چمک اٹھے تھے مہر و ماہ بھی

روشنی یہ بے نہایت آپؐ کے دم سے ملی

Tuesday, 21 December 2021

ریت کا پھیلا سمندر دور تک

 ریت کا پھیلا سمندر، دور تک

آنکھ میں تھا ایک منظر، دور تک

رات کی خاموش سی وہ رہ گزر

خود کو دیکھا اس میں کھو کر، دور تک

بعد اس کے میرے دل کے ساتھ ساتھ

بھیگا بھیگا سا تھا منظر، دور تک

Saturday, 6 November 2021

کوئی بتلائے اس سر زمین کا مقدر

 صندل جیسی دعا (فلسطین کے لیے)


کوئی بتلائے

اس سر زمین کا مقدر ابھی تک

کس لیے خاک و خوں سے ہے آلودہ آخر

کس لیے روز اٹھتے ہیں تازہ جنازے وہاں پر

کس لیے غم کی دیوار گرتی نہیں

Thursday, 4 November 2021

سب سلسلے جنوں کے خطرناک ہو گئے

 سب سلسلے جنوں کے خطرناک ہو گئے

بھڑکی وہ آگ عشق میں بس خاک ہو گئے

ساحل کی چاہ میں تو کنارے کھڑے کھڑے

ہم وقت کے سراب میں تیراک ہو گئے

میری کتاب کے جو ورق تھے، صدا بنے

پھر دیکھتے ہی دیکھتے بے باک ہو گئے