ریت کا پھیلا سمندر، دور تک
آنکھ میں تھا ایک منظر، دور تک
رات کی خاموش سی وہ رہ گزر
خود کو دیکھا اس میں کھو کر، دور تک
بعد اس کے میرے دل کے ساتھ ساتھ
بھیگا بھیگا سا تھا منظر، دور تک
چل رہی تھی خواب میں شاید کہیں
ہاتھ میں اک ہاتھ لے کر، دور تک
خوب ہے یہ اہتمامِ جشن بھی
شہر میں بکھرے ہیں پتھر، دور تک
شمع افروز
No comments:
Post a Comment