کچھ دن تو ساتھ ساتھ رہا پھر بچھڑ گیا
میلہ بھرا ہوا تھا،۔ اچانک اجڑ گیا
اک عمر ہو گئی ہے مجھے چھوڑتا نہیں
یہ کون ہاتھ دھو کے مِرے پیچھے پڑ گیا
باتیں تو بڑھ کے عرش کی رفعت سے جا ملیں
قد مختصر ہی رہ گئے،۔ قامت سُکڑ گیا
دنیا یہ کہہ رہی تھی کہ وہ بے لحاظ ہے
اس بے لحاظ ہی سے مِرا کام پڑ گیا
یادوں کی بجھتی راکھ میں چنگاریاں سی ہیں
دہلیز باقی رہ گئی،۔ در تو اکھڑ گیا
اس شام اس کے لہجے میں کچھ خاص بات تھی
نشتر سا ایک تھا جو کلیجے میں گڑ گیا
اوراق اس بیاض کے سب مُنتشر ہوئے
اپنی کتابِ زِیست کا بخیہ اُدھڑ گیا
ظہیر اقبال
No comments:
Post a Comment