گھر میں ایسے نہیں بیزار پڑے رہتے ہیں
میرے پیچھے تو مِرے یار پڑے رہتے ہیں
ڈرتے رہتے ہیں کہیں چھین نہ لے خواب کوئی
لوگ بستر پہ بھی بیدار پڑے رہتے ہیں
کچھ تو ایسے ہیں جنھیں عشق ہے لاحق صاحب
اور کچھ راہ میں بے کار پڑے رہتے ہیں
کس طرح ان کو بتاؤں مِری قیمت کیا ہے
روز مشکل میں خریدار پڑے رہتے ہیں
یہ بتاتے ہیں؛ کہاں پاؤں مجھے رکھنا ہے
یونہی رستے میں نہیں خار پڑے رہتے ہیں
رمزی آثم
No comments:
Post a Comment