Tuesday, 21 December 2021

نقد جاں کی مرے سوغات ابھی باقی ہے

 نقدِ جاں کی مِرے سوغات ابھی باقی ہے

شبِ ہجراں کی مدارات ابھی باقی ہے

دھوپ میں ترکِ مراسم کی جھلسنے والے

آخری شامِ ملاقات ابھی باقی ہے

خالق کون و مکاں ہم سے نہیں ہے ناراض

گردشِ ارض و سماوات ابھی باقی ہے

وقت کی دھوپ میں کھوئے مِرے نشے کتنے

اک تِری چشمِ خرابات ابھی باقی ہے

روزِ اول سے اجل کھیل رہی ہے شطرنج

مجھ کو شہ ہو بھی چکی مات ابھی باقی ہے

چاندنی پر ہے تمہیں رنگِ سحر کا دھوکہ

گل نہ کر دینا دِیے، رات ابھی باقی ہے

ہر غزل کی مجھے تکمیل پہ محسوس ہوا

دل میں کہنے کو کوئی بات ابھی باقی ہے


فراست رضوی

No comments:

Post a Comment