محل سرا کا جو نقشہ دکھائی دیتا ہے
امیرِ شہر بھی جاتا دکھائی دیتا ہے
وہ کہہ رہے ہیں سرابِ نظر ہے کچھ بھی نہیں
مجھے تو آنکھ میں دریا دکھائی دیتا ہے
ذرا جو غور سے دیکھیں تو لامکان سے بھی
مِرے مکان کا ملبہ دکھائی دیتا ہے
محل سرا کا جو نقشہ دکھائی دیتا ہے
امیرِ شہر بھی جاتا دکھائی دیتا ہے
وہ کہہ رہے ہیں سرابِ نظر ہے کچھ بھی نہیں
مجھے تو آنکھ میں دریا دکھائی دیتا ہے
ذرا جو غور سے دیکھیں تو لامکان سے بھی
مِرے مکان کا ملبہ دکھائی دیتا ہے
ہوا کا حکم بھی اب کے نظر میں رکھا جائے
کسی بھی رخ پہ دریچہ نہ گھر میں رکھا جائے
یہ کائنات ابھی تک مِرے طواف میں ہے
عجب نہیں اسے یوں ہی سفر میں رکھا جائے
میں سنگِ سادہ ہوں لیکن مِری یہ حسرت ہے
مکان دوست کے دیوار و در میں رکھا جائے
یہ خیال تھا کبھی خواب میں تجھے دیکھتے
کبھی زندگی کی کتاب میں تجھے دیکھتے
مِرے ماہ! تم تو حجاب ہی میں رہے مگر
ہمیں تاب تھی تب و تاب میں تجھے دیکھتے
کبھی کوئی بابت حسن ہم سے جو پوچھتا
تو ہم اہلِ عشق جواب میں تجھے دیکھتے
تِرے جیسا اور جہان میں کوئی شعلہ رو نہیں مِل سکا
مجهے اور لوگ بہت ملے، مگر ایک تُو نہیں مل سکا
یہ عجیب وضع کا ہجر تها کہ بچهڑنے والے کی کهوج میں
کئی آفتاب گئے مگر مِرا ماہ رُو نہیں مل سکا
کسی اور کا کوئی ذکر کیا اسی کائناتِ وجود میں
مجهے آپ اپنا سراغ بهی تو کبهو کبهو نہیں مل سکا
تجھ کو اس طرح کہاں چھوڑ کے جانا تھا ہمیں
وہ تو اک عہد تھا اور عہد نبھانا تھا ہمیں
تم تو اس پار کھڑے تھے تمہیں معلوم کہاں
کیسے دریا کے بھنور کاٹ کے آنا تھا ہمیں
ان کو لے آیا تھا منزل پہ زمانہ لیکن
ہم چلے ہی تھے کہ در پیش زمانہ تھا ہمیں
مجھے زندگی سے خراج ہی نہیں مِل رہا
ابھی اس سے میرا مزاج ہی نہیں مل رہا
میں بنا رہا ہوں خیال و خواب کی بندشیں
مِری بندشوں کو رواج ہی نہیں مل رہا
مجھے سلطنت تو ملی ہوئی ہے جمال کی
کسی عشق کا کوئی تاج ہی نہیں مل رہا
اے ہم نفساں!! کارِ تنفس بھی عجب ہے
ہوتا ہے تو لگتا ہے کہ ہونے کے سبب ہے
کس باب میں ہم تختئ دوراں پہ لکھے جائیں
منصب، نہ علاقہ، نہ کوئی نام و نسب ہے
تاریکئ شب میں مِرے ہونے کی گواہی
اک موجِ ہوا تھی، سو وہی مُہر بہ لب ہے
میں اس لیے آنگن کا شجر کاٹ رہا تھا
وہ حبس تھا کمروں میں کہ گھر کاٹ رہا تھا
لوگوں کو یہ خدشہ تھا کہ بُنیاد غلط ہے
دیوار کو برسات کا ڈر کاٹ رہا تھا
کانٹوں سے نہیں آبلہ پائی کو شکایت
تلووں کو تو بے فیض سفر کاٹ رہا تھا
دکان دیکھ کے پہلے تو وہ اچهل پڑے گا
پهر ایک شے نہ خریدے گا اور چل پڑے گا
میں ایک اسم بتاتا ہوں تم کو تشنہ لبو
جہاں بهی چاہو گے چشمہ وہیں ابل پڑے گا
جہان ساز! میں لے جا رہا ہوں اپنا جہاں
بنا نہیں ہے، مگر میرا کام چل پڑے گا