Showing posts with label طارق نعیم. Show all posts
Showing posts with label طارق نعیم. Show all posts

Monday, 2 October 2023

محل سرا کا جو نقشہ دکھائی دیتا ہے

 محل سرا کا جو نقشہ دکھائی دیتا ہے

امیرِ شہر بھی جاتا دکھائی دیتا ہے

وہ کہہ رہے ہیں سرابِ نظر ہے کچھ بھی نہیں

مجھے تو آنکھ میں دریا دکھائی دیتا ہے

ذرا جو غور سے دیکھیں تو لامکان سے بھی

مِرے مکان کا ملبہ دکھائی دیتا ہے

Thursday, 13 July 2023

ہوا کا حکم بھی اب کے نظر میں رکھا جائے

 ہوا کا حکم بھی اب کے نظر میں رکھا جائے

کسی بھی رخ پہ دریچہ نہ گھر میں رکھا جائے

یہ کائنات ابھی تک مِرے طواف میں ہے

عجب نہیں اسے یوں ہی سفر میں رکھا جائے

میں سنگِ سادہ ہوں لیکن مِری یہ حسرت ہے

مکان دوست کے دیوار و در میں رکھا جائے

Friday, 1 April 2022

یہ خیال تھا کبھی خواب میں تجھے دیکھتے

 یہ خیال تھا کبھی خواب میں تجھے دیکھتے

کبھی زندگی کی کتاب میں تجھے دیکھتے

مِرے ماہ! تم تو حجاب ہی میں رہے مگر

ہمیں تاب تھی تب و تاب میں تجھے دیکھتے

کبھی کوئی بابت حسن ہم سے جو پوچھتا

تو ہم اہلِ عشق جواب میں تجھے دیکھتے

Monday, 3 May 2021

ترے جیسا اور جہان میں کوئی شعلہ رو نہیں مل سکا

 تِرے جیسا اور جہان میں کوئی شعلہ رو نہیں مِل سکا

مجهے اور لوگ بہت ملے، مگر ایک تُو نہیں مل سکا

یہ عجیب وضع کا ہجر تها کہ بچهڑنے والے کی کهوج میں

کئی آفتاب گئے مگر مِرا ماہ رُو نہیں مل سکا

کسی اور کا کوئی ذکر کیا اسی کائناتِ وجود میں

مجهے آپ اپنا سراغ بهی تو کبهو کبهو نہیں مل سکا

Monday, 26 April 2021

تجھ کو اس طرح کہاں چھوڑ کے جانا تھا ہمیں

 تجھ کو اس طرح کہاں چھوڑ کے جانا تھا ہمیں

وہ تو اک عہد تھا اور عہد نبھانا تھا ہمیں

تم تو اس پار کھڑے تھے تمہیں معلوم کہاں

کیسے دریا کے بھنور کاٹ کے آنا تھا ہمیں

ان کو لے آیا تھا منزل پہ زمانہ لیکن

ہم چلے ہی تھے کہ در پیش زمانہ تھا ہمیں

Monday, 19 April 2021

مجھے زندگی سے خراج ہی نہیں مل رہا

 مجھے زندگی سے خراج ہی نہیں مِل رہا 

ابھی اس سے میرا مزاج ہی نہیں مل رہا 

میں بنا رہا ہوں خیال و خواب کی بندشیں 

مِری بندشوں کو رواج ہی نہیں مل رہا 

مجھے سلطنت تو ملی ہوئی ہے جمال کی 

کسی عشق کا کوئی تاج ہی نہیں مل رہا

Sunday, 18 April 2021

اے ہم نفساں کار تنفس بھی عجب ہے

اے ہم نفساں!! کارِ تنفس بھی عجب ہے

ہوتا ہے تو لگتا ہے کہ ہونے کے سبب ہے

کس باب میں ہم تختئ دوراں پہ لکھے جائیں

منصب، نہ علاقہ، نہ کوئی نام و نسب ہے

تاریکئ شب میں مِرے ہونے کی گواہی

اک موجِ ہوا تھی، سو وہی مُہر بہ لب ہے

Friday, 19 March 2021

میں اس لیے آنگن کا شجر کاٹ رہا تھا

 میں اس لیے آنگن کا شجر کاٹ رہا تھا

وہ حبس تھا کمروں میں کہ گھر کاٹ رہا تھا

لوگوں کو یہ خدشہ تھا کہ بُنیاد غلط ہے

دیوار کو برسات کا ڈر کاٹ رہا تھا

کانٹوں سے نہیں آبلہ پائی کو شکایت

تلووں کو تو بے فیض سفر کاٹ رہا تھا

Sunday, 29 November 2020

دکان دیکھ کے پہلے تو وہ اچهل پڑے گا

 دکان دیکھ کے پہلے تو وہ اچهل پڑے گا

پهر ایک شے نہ خریدے گا اور چل پڑے گا

میں ایک اسم بتاتا ہوں تم کو تشنہ لبو

جہاں بهی چاہو گے چشمہ وہیں ابل پڑے گا

جہان ساز! میں لے جا رہا ہوں اپنا جہاں

بنا نہیں ہے، مگر میرا کام چل پڑے گا