محبت
ہواؤں کی طرح ہلکی
یہ خوشبو کی طرح مدھم
یہ رنگوں کی طرح جاذب
کبھی خوش کُن، کبھی پُر نم
بڑے دلکش ہیں سب منظر
یہ جن کو حُسن دیتی ہے
محبت
ہواؤں کی طرح ہلکی
یہ خوشبو کی طرح مدھم
یہ رنگوں کی طرح جاذب
کبھی خوش کُن، کبھی پُر نم
بڑے دلکش ہیں سب منظر
یہ جن کو حُسن دیتی ہے
اجازت
قصد کر لے جو جانے کا اسے جانا ہی ہوتا ہے
جدائی بھی تو موسم ہے اسے آنا
ہی ہوتا ہے
محبت بوجھ بن جائے، تعلق روگ
ہو جائے، تو اس کو توڑ دیتے ہیں
جانے کس سمت سے آتے ہیں کدھر جاتے ہیں
سوکھے پتوں کی طرح خواب بکھر جاتے ہیں
آپ آتے ہیں تو پھر آپ کے آ جانے سے
زخم کچھ اور مہکتے ہیں نکھر جاتے ہیں
مانا عجلت ہے ہمیں وقت بھی کم ہے لیکن
آپ کہتے ہیں تو کچھ دیر ٹھہر جاتے ہیں
محاصرہ
مسافر بن کے آئے تھے
میرے دل کے سرائے میں
تمہیں تو کچھ سمے رک کر
یہاں سے کوچ کرنا تھا
نئے رستوں پہ چلنا تھا
اسے تم نے قلعہ سمجھا
سچائی
یہ دنیا ہے میرے ہمدم
جانے کب سے ہے قائم
نجانے کب تلک ہو گی
ہمارے بعد بھی جاناں
یونہی دلکش حسیں ہو گی
کہاں کوئی کمی ہو گی
میرے بن پڑے جو جینا
یہ زہر پڑے جو پینا
میرا پیار ساتھ رکھنا
یہی ہو گا پھر سفینہ
میری یادوں کے سہارے
کیا سمے بِتا سکو گے؟
سمجھوتہ
کریں گے عشق کی باتیں تو خود
کو کھونے کا ڈر ہے
کریں گے دل کی باتیں تو محبت ہونے کا ڈر ہے
چلو موسم، کتابوں، شاعری پہ بات کرتے ہیں
یونہی، بس کچھ سمے تک ہاتھ تھامے ساتھ چلتے ہیں
خط
بابا آپ سے ایک گلہ ہے
خط تو آپ کے اچهے ہیں سب
آپ کے ہاتھوں کی خوشبو ہے
پر، میں ان کو پڑهتی ہوں جب
ہو جاتا ہے دل کیوں بوجهل
آنکھیں کیوں دهندلا جاتی ہیں
تیری یاد خار گلاب ہے
وہی منزلیں وہی راستے
وہی رتجگے وہی فاصلے
نہ تو نیند ہے، نہ ہی خواب ہے
جو چبھے ہے دل میں ہر ایک پل
تیری یاد خار گلاب ہے
دل منتظر میرے مہرباں
ذرا بات سن
میرے خوش گماں
کروں کیسے تجھ پہ عیاں
بھلا غم زندگی کی حقیقتیں
ہے کسے طلب کسے آرزو