Showing posts with label فاطمہ نجیب. Show all posts
Showing posts with label فاطمہ نجیب. Show all posts

Friday, 4 August 2023

محبت ہواؤں کی طرح ہلکی

 محبت 

ہواؤں کی طرح ہلکی 

یہ خوشبو کی طرح مدھم 

یہ رنگوں کی طرح جاذب

کبھی خوش کُن، کبھی پُر نم

بڑے دلکش ہیں سب منظر 

یہ جن کو حُسن دیتی ہے 

Friday, 29 April 2022

اے میرے دلنشیں دل کے مکیں جاؤ خدا حافظ

 اجازت


قصد کر لے جو جانے کا اسے جانا ہی ہوتا ہے 

جدائی بھی تو موسم ہے اسے آنا

ہی ہوتا ہے 

محبت بوجھ بن جائے، تعلق روگ

ہو جائے، تو اس کو توڑ دیتے ہیں

Monday, 25 April 2022

جانے کس سمت سے آتے ہیں کدھر جاتے ہیں

 جانے کس سمت سے آتے ہیں کدھر جاتے ہیں

سوکھے پتوں کی طرح خواب بکھر جاتے ہیں

آپ آتے ہیں تو پھر آپ کے آ جانے سے

زخم کچھ اور مہکتے ہیں نکھر جاتے ہیں

مانا عجلت ہے ہمیں وقت بھی کم ہے لیکن

آپ کہتے ہیں تو کچھ دیر ٹھہر جاتے ہیں

Thursday, 16 September 2021

مسافر بن کے آئے تھے میرے دل کے سرائے میں

 محاصرہ


مسافر بن کے آئے تھے

میرے دل کے سرائے میں

تمہیں تو کچھ سمے رک کر 

یہاں سے کوچ کرنا تھا

نئے رستوں پہ چلنا تھا

اسے تم نے قلعہ سمجھا

Tuesday, 7 September 2021

یہ دنیا ہے میرے ہمدم جانے کب سے ہے قائم

 سچائی


یہ دنیا ہے میرے ہمدم

جانے کب سے ہے قائم

نجانے کب تلک ہو گی

ہمارے بعد بھی جاناں

یونہی دلکش حسیں ہو گی

کہاں کوئی کمی ہو گی

Thursday, 26 August 2021

میرے بن پڑے جو جینا

 میرے بن پڑے جو جینا

یہ زہر پڑے جو پینا

میرا پیار ساتھ رکھنا

یہی ہو گا پھر سفینہ

میری یادوں کے سہارے

کیا سمے بِتا سکو گے؟

Monday, 28 June 2021

سمجھوتہ کچھ سمے تک ہاتھ تھامے ساتھ چلتے ہیں

 سمجھوتہ


کریں گے عشق کی باتیں تو خود

کو کھونے کا ڈر ہے

کریں گے دل کی باتیں تو محبت ہونے کا ڈر ہے

چلو موسم، کتابوں، شاعری پہ بات کرتے ہیں

یونہی، بس کچھ سمے تک ہاتھ تھامے ساتھ چلتے ہیں

Monday, 30 November 2020

بابا آپ سے ایک گلہ ہے

 خط


بابا آپ سے ایک گلہ ہے

خط تو آپ کے اچهے ہیں سب

آپ کے ہاتھوں کی خوشبو ہے

پر، میں ان کو پڑهتی ہوں جب

ہو جاتا ہے دل کیوں بوجهل

آنکھیں کیوں دهندلا جاتی ہیں

Sunday, 29 November 2020

تیری یاد خار گلاب ہے

 تیری یاد خار گلاب ہے


وہی منزلیں وہی راستے

وہی رتجگے وہی فاصلے

نہ تو نیند ہے، نہ ہی خواب ہے

جو چبھے ہے دل میں ہر ایک پل

تیری یاد خار گلاب ہے

Saturday, 28 November 2020

دل منتظر میرے مہرباں

 دل منتظر میرے مہرباں

ذرا بات سن

میرے خوش گماں

کروں کیسے تجھ پہ عیاں

بھلا غم زندگی کی حقیقتیں

ہے کسے طلب کسے آرزو