Tuesday, 7 September 2021

یہ دنیا ہے میرے ہمدم جانے کب سے ہے قائم

 سچائی


یہ دنیا ہے میرے ہمدم

جانے کب سے ہے قائم

نجانے کب تلک ہو گی

ہمارے بعد بھی جاناں

یونہی دلکش حسیں ہو گی

کہاں کوئی کمی ہو گی

ابھی تو سانس ہے مدھم

ہے تھوڑی زندگی باقی

ابھی بھی جسم و جاں میں

ہے ذرا سی دلکشی باقی

ابھی دنیا کے تیور بھی

میرے محبوب جیسے ہیں

خفا ہر پل، گریزاں ہے

ہے یونہی بے وجہ برہم

سنو! پتھر پگھلنے دو

سمے کو چال چلنے دو

ہمیں بھی لوگ چاہیں گے

ذرا یہ شام ڈھلنے دو

ہاں جب دنیا سے جائیں گے

تو سب کو یاد آئیں گے

عقیدت سے محبت سے

ہمارے گیت گائیں گے

ہماری شاعری کو بھی

کھلے دل سے سراہیں گے

ہمارا وقت آنے دو

حسیں یادوں میں ڈھلنے دو

ہمیں بھی لوگ چاہیں گے

ہمیں جاں سے گزرنے دو 


فاطمہ نجیب

No comments:

Post a Comment