سچائی
یہ دنیا ہے میرے ہمدم
جانے کب سے ہے قائم
نجانے کب تلک ہو گی
ہمارے بعد بھی جاناں
یونہی دلکش حسیں ہو گی
کہاں کوئی کمی ہو گی
ابھی تو سانس ہے مدھم
ہے تھوڑی زندگی باقی
ابھی بھی جسم و جاں میں
ہے ذرا سی دلکشی باقی
ابھی دنیا کے تیور بھی
میرے محبوب جیسے ہیں
خفا ہر پل، گریزاں ہے
ہے یونہی بے وجہ برہم
سنو! پتھر پگھلنے دو
سمے کو چال چلنے دو
ہمیں بھی لوگ چاہیں گے
ذرا یہ شام ڈھلنے دو
ہاں جب دنیا سے جائیں گے
تو سب کو یاد آئیں گے
عقیدت سے محبت سے
ہمارے گیت گائیں گے
ہماری شاعری کو بھی
کھلے دل سے سراہیں گے
ہمارا وقت آنے دو
حسیں یادوں میں ڈھلنے دو
ہمیں بھی لوگ چاہیں گے
ہمیں جاں سے گزرنے دو
فاطمہ نجیب
No comments:
Post a Comment