Showing posts with label اظہار الحق. Show all posts
Showing posts with label اظہار الحق. Show all posts

Saturday, 10 February 2024

کوئی زاری سنی نہیں جاتی کوئی جرم معاف نہیں ہوتا

 کوئی زاری سنی نہیں جاتی، کوئی جرم معاف نہیں ہوتا

اس دھرتی پر اس چھت کے تلے کوئی تیرے خلاف نہیں ہوتا

کبھی دمکیں سونے کے ذرے کبھی جھلکے مُرغابی کا لہو

کئی پیاسے کب سے کھڑے ہیں، مگر پانی شفاف نہیں ہوتا

کوئی زُلف اُڑے تو بکھر جانا کوئی لب دہکیں تو ٹھٹھر جانا

کیا تزکیہ کرتے ہو دل کا،۔ یہ آئینہ صاف نہیں ہوتا

Tuesday, 2 January 2024

پڑے ہوئے ہیں مرے جسم و جاں مرے پیچھے

 پڑے ہوئے ہیں مرے جسم و جاں مِرے پیچھے

ہے ایک لشکرِ غارت گراں مرے پیچھے

پسِ وفات یہ بے دستخط مِری تحریر

نہیں ہے اور کوئی بھی نشاں مرے پیچھے

مِرے ملازم و خرگاہ اسپ اور شطرنج

سب آئیں نظم سے ماتم کناں مرے پیچھے

Thursday, 24 November 2022

اسے چاہیں تو کیا ڈھونڈیں تو کیسے

اسے چاہیں تو آہیں

دل کی سب راہیں دھوئیں سے تیرہ و تاریک کر ڈالیں

نگاہیں یوں کراہیں

جیسے تا حد نظر اس کی شعاعیں مرگ آسا جال پھیلا دیں

ہر اک شب سانس کے تاروں کو الجھائے

سحر دم خواب گہ پر کسمپرسی سایہ سایہ اس طرح منڈلائے

Friday, 8 April 2022

قرطاس و قلم ہاتھ میں ہے اور شب مہ ہے

 قرطاس و قلم ہاتھ میں ہے اور شبِ مہ ہے

اے رب ازل! کھول دے جو دل میں گرہ ہے

اطراف سے ہر شب سمٹ آتی ہے سفیدی

ہر صبح جبیں پر مگر اک روزِ سیہ ہے

میں شام سے پہلے ہی پہنچ جاؤں تو بہتر

جنگل میں ہوں اور سر پہ مرے بارِ گنہ ہے

Tuesday, 22 September 2020

سنہری نیند سے کس نے مجھے بیدار کر ڈالا

سنہری نیند سے کس نے مجھے بیدار کر ڈالا 

دریچہ کھل رہا تھا خواب میں دیوار کر ڈالا 

نشاں ہونٹوں کا لو دینے لگا ہے ذہن میں اب تو 

بالآخر میں نے اس کو مشعل رخسار کر ڈالا 

نقاہت اور بلا کا حسن اور آنکھوں کی دل گیری 

عجب بیمار تھا جس نے مجھے بیمار کر ڈالا