درد کے گہرے سناٹے میں
قریۂ جاں کے
بند کواڑ پہ دستک دے کر
ہلکی سی سرگوشی کر کے
کوئی تو پوچھے
اب تک زندہ رہنے والو
درد کے گہرے سناٹے میں
قریۂ جاں کے
بند کواڑ پہ دستک دے کر
ہلکی سی سرگوشی کر کے
کوئی تو پوچھے
اب تک زندہ رہنے والو
ایسی کہاں اتری ہے کوئی شام مِری جان
اشجار پہ لکھا ہے تِرا نام، مری جان
کٹتے ہیں کہاں ایک سے دن رات یہ موسم
ہے زیست بھی اک حسرتِ ناکام مری جان
کھیتوں میں کہاں اُگتے ہیں لفظوں کے مراسم
حرفوں کی تجارت میں گئے نام مری جان
کبھی پکار کے دیکھا کبھی بلائے تو
حدود ذات سے آگے نکل کے آئے تو
پلا رہا ہے نگاہوں کو تیرگی کا لہو
فصیل جاں پہ وہ کوئی دیا جلائے تو
سجائے رکھوں گی اپنے گمان کی دنیا
مِرے یقین کی منزل پہ کوئی آئے تو
کاغذ قلم دوات کے اندر رُک جاتا ہے
جو لمحہ اس ذات کے اندر رک جاتا ہے
سورج دن بھر زہر اُگلتا رہتا ہے
چاند کا زعم بھی رات کے اندر رک جاتا ہے
پہلے سانس جما دیتا ہے ہونٹوں پر
پھر وہ اپنی گھات کے اندر رک جاتا ہے
پھر کسی حادثے کا در کھولے
پہلے پرواز کو وہ پر کھولے
جیسے جنگل میں رات اُتری ہو
یوں اُداسی ملی ہے سر کھولے
پہلے تقدیر سے نمٹ آئے
پھر وہ اپنے سبھی ہُنر کھولے
سوچتے رہنے کی اذیت سے بھی نکلے نہیں ہیں
یہ بھی اچھا ہے کہ غم ہجر کے پھیلے نہیں ہیں
نیم خوابیدہ سی آنکھوں میں شبیہیں بنتے
میرے تکیے پہ پڑے خواب بھی سوتے نہیں ہیں
ورنہ تو وقت کا دریا ہی بہا لے جاتا
ہم تیری یاد کی پگڈنڈی پہ بیٹھے نہیں ہیں
پھر کسی حادثے کا در کھولے
پہلے پرواز کو وہ پر کھولے
جیسے جنگل میں رات اتری ہو
یوں اداسی ملی ہے سر کھولے
پہلے تقدیر سے نمٹ آئے
پھر وہ اپنے سبھی ہنر کھولے
انتہا ہونے سے پہلے سوچ لے
بے وفا ہونے سے پہلے سوچ لے
بندگی مجھ کو تو راس آ جائے گی
تُو خدا ہونے سے پہلے سوچ لے
کاسۂ ہمت نہ خالی ہو کبھی
تُو گدا ہونے سے پہلے سوچ لے