Saturday, 15 May 2021

پھر کسی حادثے کا در کھولے

 پھر کسی حادثے کا در کھولے

پہلے پرواز کو وہ پر کھولے

جیسے جنگل میں رات اتری ہو

یوں اداسی ملی ہے سر کھولے

پہلے تقدیر سے نمٹ آئے

پھر وہ اپنے سبھی ہنر کھولے

منزلوں نے وقار بخشا ہے

راستے چل پڑے سفر کھولے

جو سمجھتا ہے زندگی کے رموز

موت کا در وہ بے خطر کھولے

ہے کنول خوف رائیگانی کا

کیسے اس زندگی کا ڈر کھولے


آسناتھ کنول

No comments:

Post a Comment