Showing posts with label شائستہ مسعود. Show all posts
Showing posts with label شائستہ مسعود. Show all posts

Friday, 16 July 2021

میں اپنے ایک خواب کے گہرے کنویں میں قید ہوں

 خواب


میں اپنے ایک خواب کے

گہرے کنویں میں قید ہوں

اور منتظر ہوں 

اس معجزے کی

جو مجھ کو پہنچائے

خوابِ یوسف کی تعبیر تک

Monday, 12 July 2021

گرمیوں کی طویل دوپہریں سردیوں کی لمبی راتیں

 سوچ کے سفر میں تھکن 


گرمیوں کی طویل دوپہریں

سردیوں کی لمبی راتیں

تمہیں سوچتے گزار دینا

آساں تو نہیں ہے نا

اِس سوچ کے سفر میں جاناں 

درد جو بہتا تھا تیری آنکھوں میں

 مختصر نظم


درد جو بہتا تھا تیری آنکھوں میں

اپنے ہونٹوں سے اس طرح سمیٹا میں نے

جیسے کسی پاکیزہ مصحف کا دُھلا پانی

قطرہ قطرہ پیا میں نے 


شائستہ مسعود

Saturday, 10 July 2021

دشمنوں نے میری دشمنی میں

 دشمنوں کی ایک زنجیر


دشمنوں نے 

میری دشمنی میں

اپنے دشمنوں کو ڈرانے کے لیے 

میرا نام استعمال کیا

اور میرے لیے 

دشمنوں کی ایک زنجیر بنتی گئی

دستارِ منصف کے سائے میں بے انصافی کی صدا

 دستارِ منصف کے سائے میں

بے انصافی کی صدا

کیا دنیا میں پھر آمریت ہے

سنا ہے بادشاہ بھی

منصفوں سے ڈرتے تھے

آج منصفی ہی بادشاہت ہے

خود غرضی کے زہریلے جنگل

 خود غرضی کے زہریلے جنگل

اور اس پہ میری اخلاص کی بارش

گہری گہری ہو کر 

قطرہ قطرہ یہ خود غرضی

جیتی ہی چلی جاتی ہے

اور