خواب
میں اپنے ایک خواب کے
گہرے کنویں میں قید ہوں
اور منتظر ہوں
اس معجزے کی
جو مجھ کو پہنچائے
خوابِ یوسف کی تعبیر تک
خواب
میں اپنے ایک خواب کے
گہرے کنویں میں قید ہوں
اور منتظر ہوں
اس معجزے کی
جو مجھ کو پہنچائے
خوابِ یوسف کی تعبیر تک
سوچ کے سفر میں تھکن
گرمیوں کی طویل دوپہریں
سردیوں کی لمبی راتیں
تمہیں سوچتے گزار دینا
آساں تو نہیں ہے نا
اِس سوچ کے سفر میں جاناں
مختصر نظم
درد جو بہتا تھا تیری آنکھوں میں
اپنے ہونٹوں سے اس طرح سمیٹا میں نے
جیسے کسی پاکیزہ مصحف کا دُھلا پانی
قطرہ قطرہ پیا میں نے
شائستہ مسعود
دشمنوں کی ایک زنجیر
دشمنوں نے
میری دشمنی میں
اپنے دشمنوں کو ڈرانے کے لیے
میرا نام استعمال کیا
اور میرے لیے
دشمنوں کی ایک زنجیر بنتی گئی
دستارِ منصف کے سائے میں
بے انصافی کی صدا
کیا دنیا میں پھر آمریت ہے
سنا ہے بادشاہ بھی
منصفوں سے ڈرتے تھے
آج منصفی ہی بادشاہت ہے
خود غرضی کے زہریلے جنگل
اور اس پہ میری اخلاص کی بارش
گہری گہری ہو کر
قطرہ قطرہ یہ خود غرضی
جیتی ہی چلی جاتی ہے
اور