عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے رب ذوالجلال، اے ذی قوہ و المتین
میرے پروردگار
کروں تیری حمد میں صبح و شام
جیسے کرتے ہیں پرندے لیل و نہار
تیری رحمتوں کی کوئی حد نہیں
تیری نعمتوں کے خوان
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے رب ذوالجلال، اے ذی قوہ و المتین
میرے پروردگار
کروں تیری حمد میں صبح و شام
جیسے کرتے ہیں پرندے لیل و نہار
تیری رحمتوں کی کوئی حد نہیں
تیری نعمتوں کے خوان
گرمئی حیات کی حقیقت
چونکہ کوڈ سب گڈ مڈ ہو گئے ہیں
اور حقیقی سوچ کی جگہ
ظاہری نام و نمود نے لے لی ہے
چونکہ ہم
کبھی نہ لکھی جانے والی تاریخ
کے ہیرو پیدا کر رہے ہیں
پگڈنڈی کا سفر
کہیں بل کھاتی اور
کہیں سیدھی
یہ پگڈنڈی کہیں دور
سفر کو جاتی ہے
دو راہی ساتھ ہو لیتے ہیں
بہتی آنکھوں کا خواب
میں خواب دیکھتی ہوں
یہ ست رنگی صبح کا خواب نہیں
کچھ سُتے ہوئے سے چہرے ہیں
کھائیوں سے اُبھرتی
دُکھ کی گہری پرچھائیاں ہیں
کسان کتھا
ہل چلا کر
سُوکھی دھرتی کے سینے سے
اناج کا سونا نکالتے ہیں
کپاس کی چاندی اُگانے کو
وہ اپنا پسینہ بہاتے ہیں
ان کے اپنے بالوں میں اترتی چاندی
پنجابی نظم کا اردو ترجمہ
سب سے خطرناک ہوتا ہے، ہمارے سپنوں کا مر جانا
سب سے خطرناک ہوتا ہے، مردہ شانتی کا بھر جانا
تڑپ نہ ہونا، سب کچھ سہہ لینا
گھر سے نکلنا کام پر اور کام سے لوٹ کر گھر جانا
سب سے خطرناک وہ گھڑی ہوتی ہے
وقت
وقت کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے
مِرے پاؤں مٹ گئے ہیں
وہ اڑتا ہوا دکھائی نہیں دیتا
مگر اپنے پیچھے نشان چھوڑتا جاتا ہے
وہ بھی رفتہ رفتہ مٹ کر
بلبلے
دل کرتا ہے
بچپن کی وادیوں میں
پھر سے چلا جاؤں
پرانی رسی کے جھولے میں جھولوں
سارے دکھ صابن میں گھولوں
سانپ اور سیڑھی کا کھیل
سانپ اور سیڑھی کے
اس کھیل میں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
سیڑھی پر چڑھ کے اوپر آنے والے کو
سیڑھی ہی کھا جاتی ہے
إمرأة
میں جنس نہیں
اشرف المخلوق ہوں
وہی جسے خالق نے بنایا
تو اپنی تخلیق پہ نازاں ہوا
انجیر کی، زیتون کی
زلزلہ کے بعد کی شام کا منظر
پرندے گھروں کو لوٹتے دیکھ کر
یاد کے بادل گہرے ہوتے جاتے ہیں
رات ہونے کو ہے
ہم بھی گھر کو چلیں
پر، گھر کہاں ہے
کنکریٹ کے جنگل
کنکریٹ کے جنگل میں
روئیدگی کا نام نہیں
درخت سارے کٹ گئے
پرندے اداس ہیں
بجلی کے تاروں پہ گھونسلے بناتے ہیں
بھوک کی قاتلانہ سازش
کوڑا چُننے والا لڑکا
روٹی کے ٹکڑے کی تلاش میں
کتنی دیر سے کھڑکی کے سامنے پڑے
کوڑے کے ڈھیر کو
اُلٹ پلٹ رہا ہے
سیلف نالج (خود شناسی)
کسی نے سوال کیا، خود شناسی کیا ہے؟
اس نے جواب دیا
تمہارے دل اپنی خاموشی میں
دنوں اور راتوں میں چھپے رازوں سے بخوبی آگاہ ہیں
پھر بھی تمہیں