Wednesday, 3 August 2022

دکھ صابن میں گھولوں بلبلے بناؤں اڑاتا جاؤں

 بلبلے 


دل کرتا ہے

بچپن کی وادیوں میں

پھر سے چلا جاؤں

پرانی رسی کے جھولے میں جھولوں

سارے دکھ صابن میں گھولوں

بلبلے بناؤں

اور ہوا میں انہیں اڑاتا جاؤں

مگر ظالم وقت

جاتے ہوئے

بے فکر خوابوں کے رنگ

نلکی اور صابن کی پیالی بھی لے گیا

سچ بتاؤں تو

بوڑھے ہوتے ہوئے بچپن کو

اب بلبلے بنانے نہیں آتا


سلمیٰ جیلانی 

No comments:

Post a Comment