میں تِری راہ میں خلل شاید
تُو میرے مسئلے کا حل شاید
رات اٹکی ہوئی ہے آنکھوں میں
چاند میں پڑ گیا ہے بل شاید
زندگی کو کُرید کر دیکھو
مل ہی جائے خوشی کا پل شاید
پتھروں کا مزاج برہم ہے
شاخ پر پک چکا ہے پھل شاید
مسئلہ دل کو کم کا ہے درپیش
جس کا کوئی نہیں ہے حل شاید
یاسین ضمیر
No comments:
Post a Comment