اک پھول جیسی شکل نظر آ گئی کوئی
خوشبو کے ساتھ ساتھ چلی تازگی کوئی
اس شہرِ بے چراغ کی وحشت پہ کیا کہوں
اپنا بھی لگ رہا ہے مجھے اجنبی کوئی
پتھر مزاج مجھ کو دکھانے سے پیشتر
ثابت تو کر، کہ تو بھی نہیں سامری کوئی
اک پھول جیسی شکل نظر آ گئی کوئی
خوشبو کے ساتھ ساتھ چلی تازگی کوئی
اس شہرِ بے چراغ کی وحشت پہ کیا کہوں
اپنا بھی لگ رہا ہے مجھے اجنبی کوئی
پتھر مزاج مجھ کو دکھانے سے پیشتر
ثابت تو کر، کہ تو بھی نہیں سامری کوئی
اگرچہ نغمہ سرائی کا وقت بھی نہیں ہے
زمانے دیکھ لڑائی کا وقت بھی نہیں ہے
تمہارے شہر نے پاگل بنا لیا لیکن
کسی کو راہنمائی کا وقت بھی نہیں ہے
مِرے خدا کوئی مجھ سے بِچھڑ رہا ہے اور
تُو جانتا ہے جُدائی کا وقت بھی نہیں ہے
کسی کےعشق پر مامور ہو جا
مِرے دل نے کہا؛ مجبور ہو جا
اسے تاکید کر دی ہے کہ گھر میں
دعائے وصل کر، محصور ہو جا
مجھے دل کی پریشانی نہیں ہے
مِری دیوانگی سے دور ہو جا
نئے نصاب نئے باب دیکھنے آئے
مرے مزاج کے وہ خواب دیکھنے آئے
میں جھیل بن گیا آخر تِری محبت میں
کہ مجھ میں تُو کبھی مہتاب دیکھنے آئے
ہمیں سکون سے آتی تھی نیند گاؤں میں
اگرچہ شہر میں ہم خواب دیکھنے آئے