سنگِ طِفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلا
ہم تو جس شہر گئے شہر تمہارا نکلا
کس سے امید کریں کوئی علاج دل کی
چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا
جانے مدت پہ تِری یاد کدھر سے آئی
راکھ کے ڈھیر میں پوشیدہ شرارا نکلا
سنگِ طِفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلا
ہم تو جس شہر گئے شہر تمہارا نکلا
کس سے امید کریں کوئی علاج دل کی
چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا
جانے مدت پہ تِری یاد کدھر سے آئی
راکھ کے ڈھیر میں پوشیدہ شرارا نکلا
جب دل میں تیری یاد نہ آنکھوں میں نیند تھی
ایسی بھی ایک رات مجھے کاٹنی پڑی
جس کے بغیر پل کا گزرنا محال تھا
اس جانِ جاں کی یاد بھی مہمان بن گئی
پہلو میں بھی تِرے غم دوراں کا ڈر رہا
کار جہاں نے یوں مِری مٹی خراب کی
ہم کو کچھ یاد نہیں تیرے سوا بھول گئے
اپنی صورت ہی نہیں اپنی صدا بھول گئے
کوچۂ چشم کے سب نقش و نوا بھول گئے
ہم پہ وہ وقت پڑا شورِ انا بھول گئے
میں اکیلا ہی رہا برگ و ثمر سے خالی
موسمِ گل میں مجھے میرے خدا بھول گئے
جانے کس سانحۂ درد کے غمّاز رہے
عہد در عہد بکھرتی ہوئی آواز رہے
گم ہوئی جاتی ہے تاریک خلاؤں میں نظر
اس گھڑی میرے سرہانے مِرا دَمساز رہے
اپنی پہچان ہی کھو بیٹھے ہم رفتہ رفتہ
اپنے ہی آپ سے ہم کتنے نظر انداز رہے
آج تک بہکا نہیں باہر سے دیوانہ تِرا
حوصلے میری نگاہوں کے ہیں پیمانہ ترا
رات بھر شبنم کی آنکھوں سے سحر کی مانگ میں
میں جسے لکھتا رہا، وہ بھی تھا افسانہ ترا
یہ تِرے دریا سلامت، یہ تِرے بادل بخیر
لُٹ رہے ہیں خُم پہ خُم، ثابت ہے مے خانہ ترا
اتنا چپ چاپ تعلق پہ زوال آیا تھا
دل ہی رویا تھا نہ چہرے پہ ملال آیا تھا
صبح دم مجھ کو نہ پہچان سکا آئینہ
میں شب غم کی مسافت سے نڈھال آیا تھا
پھر ٹپکتی رہی سینے پہ یہ شبنم کیسی
یاد آئی نہ کبھی تیرا خیال آیا تھا