Showing posts with label لطف الرحمٰن. Show all posts
Showing posts with label لطف الرحمٰن. Show all posts

Wednesday, 30 November 2022

سنگ طفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلا

 سنگِ طِفلاں کا ہدف جسم ہمارا نکلا

ہم تو جس شہر گئے شہر تمہارا نکلا

کس سے امید کریں کوئی علاج دل کی

چارہ گر بھی تو بہت درد کا مارا نکلا

جانے مدت پہ تِری یاد کدھر سے آئی

راکھ کے ڈھیر میں پوشیدہ شرارا نکلا

Monday, 14 March 2022

جب دل میں تیری یاد نہ آنکھوں میں نیند تھی

 جب دل میں تیری یاد نہ آنکھوں میں نیند تھی

ایسی بھی ایک رات مجھے کاٹنی پڑی

جس کے بغیر پل کا گزرنا محال تھا

اس جانِ جاں کی یاد بھی مہمان بن گئی

پہلو میں بھی تِرے غم دوراں کا ڈر رہا

کار جہاں نے یوں مِری مٹی خراب کی

Sunday, 30 January 2022

ہم کو کچھ یاد نہیں تیرے سوا بھول گئے

 ہم کو کچھ یاد نہیں تیرے سوا بھول گئے

اپنی صورت ہی نہیں اپنی صدا بھول گئے

کوچۂ چشم کے سب نقش و نوا بھول گئے

ہم پہ وہ وقت پڑا شورِ انا بھول گئے

میں اکیلا ہی رہا برگ و ثمر سے خالی

موسمِ گل میں مجھے میرے خدا بھول گئے

Tuesday, 28 December 2021

جانے کس سانحۂ درد کے غماز رہے

 جانے کس سانحۂ درد کے غمّاز رہے

عہد در عہد بکھرتی ہوئی آواز رہے

گم ہوئی جاتی ہے تاریک خلاؤں میں نظر

اس گھڑی میرے سرہانے مِرا دَمساز رہے

اپنی پہچان ہی کھو بیٹھے ہم رفتہ رفتہ

اپنے ہی آپ سے ہم کتنے نظر انداز رہے

Monday, 27 December 2021

آج تک بہکا نہیں باہر سے دیوانہ ترا

 آج تک بہکا نہیں باہر سے دیوانہ تِرا

حوصلے میری نگاہوں کے ہیں پیمانہ ترا

رات بھر شبنم کی آنکھوں سے سحر کی مانگ میں

میں جسے لکھتا رہا، وہ بھی تھا افسانہ ترا

یہ تِرے دریا سلامت، یہ تِرے بادل بخیر

لُٹ رہے ہیں خُم پہ خُم، ثابت ہے مے خانہ ترا

Wednesday, 16 December 2020

دل ہی رویا تھا نہ چہرے پہ ملال آیا تھا

 اتنا چپ چاپ تعلق پہ زوال آیا تھا

دل ہی رویا تھا نہ چہرے پہ ملال آیا تھا

صبح دم مجھ کو نہ پہچان سکا آئینہ

میں شب غم کی مسافت سے نڈھال آیا تھا

پھر ٹپکتی رہی سینے پہ یہ شبنم کیسی

یاد آئی نہ کبھی تیرا خیال آیا تھا