Monday, 14 March 2022

جب دل میں تیری یاد نہ آنکھوں میں نیند تھی

 جب دل میں تیری یاد نہ آنکھوں میں نیند تھی

ایسی بھی ایک رات مجھے کاٹنی پڑی

جس کے بغیر پل کا گزرنا محال تھا

اس جانِ جاں کی یاد بھی مہمان بن گئی

پہلو میں بھی تِرے غم دوراں کا ڈر رہا

کار جہاں نے یوں مِری مٹی خراب کی

جس کے لیے یہ خاک بسر عمر بھر رہا

اس نے دل غریب کی کوئی خبر نہ کی

جینا نہیں تھا کھیل مگر تیرے نام پر

ہم نے یہ قید سخت بھی ہنس کر گزار دی


لطف الرحمٰن

No comments:

Post a Comment