دھڑکن ہیں، میری سانس ہیں، میری حیات ہیں
اک آپ ہی تو بس مِری کُل کائنات ہیں
یہ وحدت الوجود ہے، یا وحدت الشہود
میں جانتی ہوں آپ ہی بس میری ذات ہیں
دیکھوں جدھر بھی آپ کی صورت دکھائی دے
میں یک جہت ہوں آپ مِرے شش جہات ہیں
دھڑکن ہیں، میری سانس ہیں، میری حیات ہیں
اک آپ ہی تو بس مِری کُل کائنات ہیں
یہ وحدت الوجود ہے، یا وحدت الشہود
میں جانتی ہوں آپ ہی بس میری ذات ہیں
دیکھوں جدھر بھی آپ کی صورت دکھائی دے
میں یک جہت ہوں آپ مِرے شش جہات ہیں
روم روم میں درد بسائے بیٹھے ہیں
یادوں کا انبار لگائے بیٹھے ہیں
ایک ہی روشندان تھا دل کی کُٹیا کا
اس پر بھی دیوار اُٹھائے بیٹھے ہیں
درد کا گاہک شاید کوئی آ نکلے
زخموں کا بازار سجائے بیٹھے ہیں
مجھے التفات سے باز رکھ مجھے زندگی کی سزا نہ دے
یہ نوازشات کا سلسلہ، مِرا درد اور بڑھا نہ دے
کبھی رنگ روپ بدل لیا، کبھی خود کو خود سے چھپا لیا
کہ جہانِ حرص و ہوس کہیں کوئی تازہ زخم لگا نہ دے
یہ ہے میری خواہشِ معتبر مجھے گھر کے کونے میں دفن کر
مجھے گھر کے کونے میں دفن کر مجھے بےگھری کی سزا نہ دے
یاد تیری دلا رہے ہیں مجھے
چاند تارے جلا رہے ہیں مجھے
پہلے دنیا ستا رہی تھی مجھے
آپ بھی اب ستا رہے ہیں مجھے
دیکھیے پھر سے بے خیالی میں
آپ پھر گنگنا رہے ہیں مجھے
میری جب اس سے آشنائی تھی
میرے ہمراہ اک خدائی تھی
گردشِ وقت اس کی شاہد ہے
آسماں تک مِری رسائی تھی
یاد کر میرا ساتھ دینے کی
تُو نے میری قسم اٹھائی تھی
آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیں
میرے احساس میں سو درد اتر جاتے ہیں
پاس آ کر بھی اگر پاس نہ آئے کوئی
ہم شب وصل کی تنہائی میں مر جاتے ہیں
کیا عجب دور پر آشوب ہے جس میں اے دوست
لوگ دستار بچاتے ہیں تو سر جاتے ہیں
کل جو کہتا تھا خوشنوا مجھ کو
کر دیا اُس نے بے صدا مجھ کو
تیرگی میں تمہارے کام آتی
تم نے دن میں جلا دیا مجھ کو
میری ضد نے انا پرستی نے
کتنا مشکل بنا دیا مجھ کو