Showing posts with label ثبین سیف. Show all posts
Showing posts with label ثبین سیف. Show all posts

Monday, 18 April 2022

دھڑکن ہیں میری سانس ہیں میری حیات ہیں

 دھڑکن ہیں، میری سانس ہیں، میری حیات ہیں

اک آپ ہی تو بس مِری کُل کائنات ہیں

یہ وحدت الوجود ہے، یا وحدت الشہود

میں جانتی ہوں آپ ہی بس میری ذات ہیں

دیکھوں جدھر بھی آپ کی صورت دکھائی دے

میں یک جہت ہوں آپ مِرے شش جہات ہیں

Monday, 7 June 2021

روم روم میں درد بسائے بیٹھے ہیں

 روم روم میں درد بسائے بیٹھے ہیں

یادوں کا انبار لگائے بیٹھے ہیں

ایک ہی روشندان تھا دل کی کُٹیا کا

اس پر بھی دیوار اُٹھائے بیٹھے ہیں

درد کا گاہک شاید کوئی آ نکلے

زخموں کا بازار سجائے بیٹھے ہیں

Wednesday, 5 May 2021

مجھے التفات سے باز رکھ مجھے زندگی کی سزا نہ دے

 مجھے التفات سے باز رکھ مجھے زندگی کی سزا نہ دے

یہ نوازشات کا سلسلہ، مِرا درد اور بڑھا نہ دے

کبھی رنگ روپ بدل لیا، کبھی خود کو خود سے چھپا لیا

کہ جہانِ حرص و ہوس کہیں کوئی تازہ زخم لگا نہ دے

یہ ہے میری خواہشِ معتبر مجھے گھر کے کونے میں دفن کر

مجھے گھر کے کونے میں دفن کر مجھے بےگھری کی سزا نہ دے

Sunday, 2 May 2021

یاد تیری دلا رہے ہیں مجھے

 یاد تیری دلا رہے ہیں مجھے

چاند تارے جلا رہے ہیں مجھے

پہلے دنیا ستا رہی تھی مجھے

آپ بھی اب ستا رہے ہیں مجھے

دیکھیے پھر سے بے خیالی میں

آپ پھر گنگنا رہے ہیں مجھے

میری جب اس سے آشنائی تھی

 میری جب اس سے آشنائی تھی

میرے ہمراہ اک خدائی تھی

گردشِ وقت اس کی شاہد ہے

آسماں تک مِری رسائی تھی

یاد کر میرا ساتھ دینے کی

تُو نے میری قسم اٹھائی تھی

Sunday, 18 April 2021

آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیں

 آپ دانستہ جو کترا کے گزر جاتے ہیں

میرے احساس میں سو درد اتر جاتے ہیں

پاس آ کر بھی اگر پاس نہ آئے کوئی

ہم شب وصل کی تنہائی میں مر جاتے ہیں

کیا عجب دور پر آشوب ہے جس میں اے دوست

لوگ دستار بچاتے ہیں تو سر جاتے ہیں

Saturday, 17 April 2021

کل جو کہتا تھا خوش نوا مجھ کو

 کل جو کہتا تھا خوشنوا مجھ کو

کر دیا اُس نے بے صدا مجھ کو

تیرگی میں تمہارے کام آتی

تم نے دن میں جلا دیا مجھ کو

میری ضد نے انا پرستی نے

کتنا مشکل بنا دیا مجھ کو