نہ پارسا نہ ہی گنہ گار تھے
ہم تو فقط جناب کے طلبگار تھے
بزم میں جب بھی چھڑی داستانِ عشق
نسبت اروروں کے ہم زیادہ بیمار تھے
اک ہمارے نہیں کئی قتل میں ملوث تھے
وہ جانور نہیں انسان خون خوار تھے
نہ پارسا نہ ہی گنہ گار تھے
ہم تو فقط جناب کے طلبگار تھے
بزم میں جب بھی چھڑی داستانِ عشق
نسبت اروروں کے ہم زیادہ بیمار تھے
اک ہمارے نہیں کئی قتل میں ملوث تھے
وہ جانور نہیں انسان خون خوار تھے
بھول گیا ہوں اپنا انجام ساقی
پلا دیا یہ کیسا جام🍷 ساقی؟
برسوں سے میرے ہوش نہیں اڑے
اک جھلک، کبھی اک شام ساقی
تجھ بِن میرے دن بھی اندھیرے ہیں
تُو ملے تو روشن ہوں میرے شام ساقی
جب میری آنکھوں سے آئینہ ہٹ گیا
میں ریزہ ریزہ ہو کر کئی حصوں میں بٹ گیا
راس نہ آئی اپنی محنت کی کمائی
مسافر کیا کرے جو سفر میں لٹ گیا
چاند کا رخ کبھی میرے آنگن میں تھا
مگر اب جانے کس دیوار میں چمٹ گیا
دیکھو ان کے غصے کی شدت توبہ توبہ
نہ کرسکے کچھ کہنے کی جرأت توبہ توبہ
کبھی ہم بھی گناہوں پہ رو لیں
پر نہیں ملتی تم سے فرصت توبہ توبہ
ہر گھڑی ہر پل رونا ہی تیرا مشغلہ
کیا یہی ہے انجام محبت توبہ توبہ
ہجر کی زیر لب اذانوں سے
میری آنکھوں کا غسل جاری ہے
اک جنم اور چاہیے مجھ کو
زیست یہ تیرے لیے گزاری ہے
مجھ میں پیوست ہو گئے ہیں وہ
کتنا میرا وجود بھاری ہے