نہ پارسا نہ ہی گنہ گار تھے
ہم تو فقط جناب کے طلبگار تھے
بزم میں جب بھی چھڑی داستانِ عشق
نسبت اروروں کے ہم زیادہ بیمار تھے
اک ہمارے نہیں کئی قتل میں ملوث تھے
وہ جانور نہیں انسان خون خوار تھے
میرے جذبوں کی صداقت کام نہ آئی
گر ہمیں وہ چاہتے تو ہم حقدار تھے
تُو مل جاتی، ہر خواہش تکمیل پاتی
دوش تیرا نہیں مخالفوں کے انبار تھے
نماز پڑھنے کے بعد مسلمان پہچانے گئے
یوں تو محفل میں بیٹھے کئی کفار تھے
اپنے آئے نہیں کبھی تعزیت کو
آثار ہم تودشمنوں کے غمخوار تھے
سراج آثار
No comments:
Post a Comment