Tuesday, 19 October 2021

نہ پارسا نہ ہی گنہگار تھے

 نہ پارسا نہ ہی گنہ گار تھے 

ہم تو فقط جناب کے طلبگار تھے 

بزم میں جب بھی چھڑی داستانِ عشق

نسبت اروروں کے ہم زیادہ بیمار تھے

اک ہمارے نہیں کئی قتل میں ملوث تھے

وہ جانور نہیں انسان خون خوار تھے

میرے جذبوں کی صداقت کام نہ آئی

گر ہمیں وہ چاہتے تو ہم حقدار تھے

تُو مل جاتی، ہر خواہش تکمیل پاتی

دوش تیرا نہیں مخالفوں کے انبار تھے

نماز پڑھنے کے بعد مسلمان پہچانے گئے

یوں تو محفل میں بیٹھے کئی کفار تھے

اپنے آئے نہیں کبھی تعزیت کو

آثار ہم تودشمنوں کے غمخوار تھے


سراج آثار

No comments:

Post a Comment