Tuesday, 19 October 2021

مجھ پر نشاں لگائیے پہلے سوالیے

 مجھ پر نشاں لگائیے پہلے سوالیے

پھر مسئلوں کو کھولیئے اور حل نکالیے

جذبات آ سکے ہیں کبھی اختیار میں

آنکھوں کی فکر چھوڑئیے دل کو سنبھالیے

وحشت نے میری نیند پہ پہرے لگا دئیے

کچھ خواب میری آنکھ کی جانب اچھالیے

وہم و گماں اتار کے پھینکے ہیں اور پھر

ہم نے یقیں کی اون سے خرقے سِلا لیے

کم پڑ رہا تھا پہلے ہی کشکول زندگی

اور ہم نے اپنی ذات کے غم بھی اٹھا لیے

کچھ لوگ گاؤں چھوڑ کے شہروں میں جا بسے

باقی کو انتظار کی دیمک نے کھا لیے

فیصل وہ پھر بھی آنکھ پہ ظاہر نہیں ہوا

پردے بھی درمیان سے سارے اٹھا لیے


فیصل ندیم

No comments:

Post a Comment