رکھے ہے انتہا احوال کی تحریر بھی آخر
کاش ہم کوئی کیمیا گر ہوتے
تو تمہارے نام خامہ فرسائی کی خاطر
مہوسوں کی طرح اک نایاب رسائن بناتے
پھر ہماری تحریر کا ہر حرف
تمہارے دل کی دھاتوں کو
پگھلا پگھلا کر سنہری کرتا جاتا
اور ہمارے سخن کا ہر نکتہ
تمہاری خامشی کی تاریکیوں کو
توڑ توڑ کر چاندی کرتا جاتا
مگر سچ تو یہ ہے میری جاں
کہ ہماری روشنائیِ قلم میں
ماسوائے زمینی جذبوں کے
کوئی بوٹیِ خاص شامل نہیں
اور ہماری صریرِ خامہ میں
ماسوائے ارضی صداؤں کے
کوئی غیبی آواز شامل نہیں
کومل راجہ
No comments:
Post a Comment