Tuesday, 19 October 2021

کاش ہم کوئی کیمیا گر ہوتے

 رکھے ہے انتہا احوال کی تحریر بھی آخر


کاش ہم کوئی کیمیا گر ہوتے

تو تمہارے نام خامہ فرسائی کی خاطر

مہوسوں کی طرح اک نایاب رسائن بناتے

پھر ہماری تحریر کا ہر حرف

تمہارے دل کی دھاتوں کو

پگھلا پگھلا کر سنہری کرتا جاتا

اور ہمارے سخن کا ہر نکتہ

تمہاری خامشی کی تاریکیوں کو

توڑ توڑ کر چاندی کرتا جاتا

مگر سچ تو یہ ہے میری جاں

کہ ہماری روشنائیِ قلم میں

ماسوائے زمینی جذبوں کے

کوئی بوٹیِ خاص شامل نہیں

اور ہماری صریرِ خامہ میں

ماسوائے ارضی صداؤں کے

کوئی غیبی آواز شامل نہیں


کومل راجہ

No comments:

Post a Comment