Showing posts with label عبدالمنان طرزی. Show all posts
Showing posts with label عبدالمنان طرزی. Show all posts

Friday, 25 February 2022

شوق بقا کا آپ نے کتنا حسیں صلہ دیا

 شوقِ بقاء کا آپ نے کتنا حسیں صلہ دیا

خاک ہی سے بنا تھا میں خاک میں پھر ملا دیا

چشم کرشمہ ساز کی یہ بھی ہے اک خصوصیت

چاہا جسے بنا دیا،۔۔۔ چاہا جسے مٹا دیا

مجھ سے اگر ہوئی تھی بھول آپ نے کیوں کیا قصور

کیوں میرا حال دیکھ کر بزم میں مسکرا دیا

Sunday, 16 January 2022

مر جائیں گے پندار کا سودا نہ کریں گے

 مر جائیں گے پندار کا سودا نہ کریں گے

ایسا نہ کریں گے، کبھی ایسا نہ کریں گے

وہ زخم بھی پہنچائیں کریں چارہ گری بھی

یہ بھول کبھی میرے مسیحا نہ کریں گے

پھوٹے گی سحر دیدۂ گریاں سے ہمارے

خوں ریز تبسم کا اجالا نہ کریں گے

Friday, 24 December 2021

دکھ دیا ہے جس نے دکھ اس کو بتانا چاہئے

 دکھ دیا ہے جس نے دکھ اس کو بتانا چاہیۓ

دل پہ کیا گزری ہے میرے، یہ سنانا چاہیۓ

اس اندھیرے کو بہر صورت مٹانا چاہیۓ

کچھ نہیں تو اب چراغِ دل جلانا چاہیۓ

فرق خاص و عام رِندوں میں نہ اے ساقی رہے

مے کدہ میں دور ایک ایسا بھی آنا چاہیۓ

Thursday, 23 December 2021

خون جب اشک میں ڈھلتا ہے غزل ہوتی ہے

 خون جب اشک میں ڈھلتا ہے غزل ہوتی ہے

جب بھی دل رنگ بدلتا ہے غزل ہوتی ہے

تیرے اخلاص ستم ہی کا اسے فیض کہیں

منجمد درد پگھلتا ہے، غزل ہوتی ہے

دل کو گرماتی ہے اشکوں کے ستاروں کی کرن

جب دِیا شام کا جلتا ہے، غزل ہوتی ہے

Sunday, 17 October 2021

میں پہنچا اپنی منزل تک مگر آہستہ آہستہ

 میں پہنچا اپنی منزل تک مگر آہستہ آہستہ

کیا ہے پورا اک مشکل سفر آہستہ آہستہ

نہیں آساں حریمِ ناز تک کی تھی رسائی بھی

ہوئے تسخیر لیکن بام و در آہستہ آہستہ

متاعِ عزمِ محکم ہی کا اس کو معجزہ کہیۓ

کہ منزل بن گئی خود رہگزر آہستہ آہستہ