شوقِ بقاء کا آپ نے کتنا حسیں صلہ دیا
خاک ہی سے بنا تھا میں خاک میں پھر ملا دیا
چشم کرشمہ ساز کی یہ بھی ہے اک خصوصیت
چاہا جسے بنا دیا،۔۔۔ چاہا جسے مٹا دیا
مجھ سے اگر ہوئی تھی بھول آپ نے کیوں کیا قصور
کیوں میرا حال دیکھ کر بزم میں مسکرا دیا
شوقِ بقاء کا آپ نے کتنا حسیں صلہ دیا
خاک ہی سے بنا تھا میں خاک میں پھر ملا دیا
چشم کرشمہ ساز کی یہ بھی ہے اک خصوصیت
چاہا جسے بنا دیا،۔۔۔ چاہا جسے مٹا دیا
مجھ سے اگر ہوئی تھی بھول آپ نے کیوں کیا قصور
کیوں میرا حال دیکھ کر بزم میں مسکرا دیا
مر جائیں گے پندار کا سودا نہ کریں گے
ایسا نہ کریں گے، کبھی ایسا نہ کریں گے
وہ زخم بھی پہنچائیں کریں چارہ گری بھی
یہ بھول کبھی میرے مسیحا نہ کریں گے
پھوٹے گی سحر دیدۂ گریاں سے ہمارے
خوں ریز تبسم کا اجالا نہ کریں گے
دکھ دیا ہے جس نے دکھ اس کو بتانا چاہیۓ
دل پہ کیا گزری ہے میرے، یہ سنانا چاہیۓ
اس اندھیرے کو بہر صورت مٹانا چاہیۓ
کچھ نہیں تو اب چراغِ دل جلانا چاہیۓ
فرق خاص و عام رِندوں میں نہ اے ساقی رہے
مے کدہ میں دور ایک ایسا بھی آنا چاہیۓ
خون جب اشک میں ڈھلتا ہے غزل ہوتی ہے
جب بھی دل رنگ بدلتا ہے غزل ہوتی ہے
تیرے اخلاص ستم ہی کا اسے فیض کہیں
منجمد درد پگھلتا ہے، غزل ہوتی ہے
دل کو گرماتی ہے اشکوں کے ستاروں کی کرن
جب دِیا شام کا جلتا ہے، غزل ہوتی ہے
میں پہنچا اپنی منزل تک مگر آہستہ آہستہ
کیا ہے پورا اک مشکل سفر آہستہ آہستہ
نہیں آساں حریمِ ناز تک کی تھی رسائی بھی
ہوئے تسخیر لیکن بام و در آہستہ آہستہ
متاعِ عزمِ محکم ہی کا اس کو معجزہ کہیۓ
کہ منزل بن گئی خود رہگزر آہستہ آہستہ