دکھ دیا ہے جس نے دکھ اس کو بتانا چاہیۓ
دل پہ کیا گزری ہے میرے، یہ سنانا چاہیۓ
اس اندھیرے کو بہر صورت مٹانا چاہیۓ
کچھ نہیں تو اب چراغِ دل جلانا چاہیۓ
فرق خاص و عام رِندوں میں نہ اے ساقی رہے
مے کدہ میں دور ایک ایسا بھی آنا چاہیۓ
دیکھ کر جس کو حقیقت رشک پر مجبور ہو
یوں تصور کی طرح پیکر بنانا چاہیۓ
بارگاہِ میر و سلطاں میں رسائی ہو نہ ہو
دوستوں کے دل میں اے طرزی سمانا چاہیۓ
عبدالمنان طرزی
No comments:
Post a Comment