اس سے بڑھ کر تو نہیں کوئی قیامت صاحب
عمر گزری نہ ہوئی شرحِ محبت صاحب
ہونے رخصت جو لگا دردِ محبت صاحب
ساز اک چھیڑ گیا پھر غمِ فرقت صاحب
اڑ گئے شاخِ تمنا سے یہ پنچھی کہہ کر
کھا گئی تیرا چمن گردِ کدورت صاحب
اس سے بڑھ کر تو نہیں کوئی قیامت صاحب
عمر گزری نہ ہوئی شرحِ محبت صاحب
ہونے رخصت جو لگا دردِ محبت صاحب
ساز اک چھیڑ گیا پھر غمِ فرقت صاحب
اڑ گئے شاخِ تمنا سے یہ پنچھی کہہ کر
کھا گئی تیرا چمن گردِ کدورت صاحب
کوئی منظر مِری آنکھوں میں ہرا رہنے دے
تُو منڈیروں پہ چراغوں کو جلا رہنے دے
کچھ تو دنیا میں بھی جینے کا مزا رہنے دے
واعظ! اتنا بھی نہ خلقت کو ڈرا، رہنے دے
وجہِ تکریمِ جنوں ہے مِری لُکنت واعظ
مجھ کو نہ عرش کے احوال بتا، رہنے دے
اب دیکھیے کیا شہ کے طرفدار کریں گے
سنتے ہیں کہ زنداں کو ہوا دار کریں گے
اقلیمِ نباتات کے الجھے ہوئے ریشے
اک بار تو انساں کو خبردار کریں گے
میخیں جو اکھاڑیں گے پہاڑوں کی تو سن لیں
افلاک کے موسم ہمیں بیمار کریں گے
اچھا بُرا تھا وقت جو تحریر کر لیا
چاہا تو پھر غزل میں بھی تصویر کر لیا
وہ دلنشین چل رہی تھی تمکنت کے ساتھ
دیکھا مجھے تو چال کو تغیِیر کر لیا
نظروں کے تیر میں تھے وہ ابرو کمان کش
چپ چاپ میں نے دل بہ ہدف تیر کر لیا
دیکھا تھا فقط زُلف کو شانوں سے کمر تک
پائی نہ کہیں دل نے تو پھر اپنی خبر تک
قدموں میں تِرے بیٹھا ہے دلدار کی صورت
جو دل نہ گیا چل کے کسی راہ گزر تک
پھرتے ہیں وہ اکثر لیے آئینہ جہاں میں
دیکھا ہے جنہیں عشق نے حیرت کی نظر تک
یوں ستاروں میں گرفتار قمر لگتا ہے
جیسے اُلجھا ہوا خود میں ہی بشر لگتا ہے
کیسی ہر شخص کے ماتھے پہ سجی ہے قیمت
شہر کا شہر ہی یوسف کا نگر لگتا ہے
بڑی زرخیز ہے مٹی بھی مِرے آنگن کی
نیا ہر رُت میں تمنا کا شجر لگتا ہے
میری شاعرہ
میری شاعرہ
کبھی تم جو میرے شہر میں آؤ
تو دیکھنا
ان راستوں کو
جن پر چلتے ہوئے میں نے تمہیں سوچا ہو گا
آزاد تھی فطرت کے مناظر میں چبھن بھی
تابع اسی قانون کے تھا شہرِ بدن بھی
پنہاں مِرے باطن میں تھی اُس رمز کی بندش
رنگین ہے جس رمز سے کونینِ چمن بھی
آکاش سے بارش بھی پسینے کی طرح ہے
موسم کو ملا حبس، تو سینے کو گھٹن بھی
آپ مجھ کو نہ کسی اور بہانے پہ رکھیں
بات دل کی، مِرے دل کے ہی نشانے پہ رکھیں
پہلے تو وصل کی ہر بات گنی پوروں پر
پھر کہا ہجر نے شعروں میں سنانے پہ رکھیں
مُدعا میں نے کہا دل کا، تو ہنس کر بولے
آپ کچھ ہوش و حواس اپنے ٹھکانے پہ رکھیں
سلسلہ وار اڑے باعثِ آزار گئے
یہ اداسی کے پرندے تو مجھے مار گئے
رہ گیا میں ہی اکیلا شبِ تنہائی میں
میرے زندانِ تعلق کے تو سب یار گئے
جاں گئی پر نہ گیا زلف کا سودا سر سے
لے کے اک وحشی تِرا ہم جو سرِ دار گئے
اڑ کے جاتی ہے تو اب اے مُشتِ خاک کہاں
دل کی وسعت کے برابر بھلا افلاک کہاں
آنکھ بے نور ہوئی ہے تو سمجھ پایا ہوں
دل میں زرخیز تمنا کی تھی خوراک کہاں
کشتئ جاں کو تھپیڑوں کے حوالے کر کے
لے کے پتوار ہُوا گم ترا پیراک کہاں؟