Showing posts with label اکرام قاسمی. Show all posts
Showing posts with label اکرام قاسمی. Show all posts

Thursday, 31 March 2022

اس سے بڑھ کر تو نہیں کوئی قیامت صاحب

 اس سے بڑھ کر تو نہیں کوئی قیامت صاحب

عمر گزری نہ ہوئی شرحِ محبت صاحب

ہونے رخصت جو لگا دردِ محبت صاحب

ساز اک چھیڑ گیا پھر غمِ فرقت صاحب

اڑ گئے شاخِ تمنا سے یہ پنچھی کہہ کر

کھا گئی تیرا چمن گردِ کدورت صاحب

Wednesday, 4 August 2021

کوئی منظر مری آنکھوں میں ہرا رہنے دے

 کوئی منظر مِری آنکھوں میں ہرا رہنے دے

تُو منڈیروں پہ چراغوں کو جلا رہنے دے

کچھ تو دنیا میں بھی جینے کا مزا رہنے دے

واعظ! اتنا بھی نہ خلقت کو ڈرا، رہنے دے

وجہِ تکریمِ جنوں ہے مِری لُکنت واعظ

مجھ کو نہ عرش کے احوال بتا، رہنے دے

Friday, 30 July 2021

اب دیکھیے کیا شہ کے طرفدار کریں گے

 اب دیکھیے کیا شہ کے طرفدار کریں گے

سنتے ہیں کہ زنداں کو ہوا دار کریں گے

اقلیمِ نباتات کے الجھے ہوئے ریشے

اک بار تو انساں کو خبردار کریں گے

میخیں جو اکھاڑیں گے پہاڑوں کی تو سن لیں

افلاک کے موسم ہمیں بیمار کریں گے

Saturday, 24 July 2021

اچھا برا تھا وقت جو تحریر کر لیا

 اچھا بُرا تھا وقت جو تحریر کر لیا

چاہا تو پھر غزل میں بھی تصویر کر لیا

وہ دلنشین چل رہی تھی تمکنت کے ساتھ

دیکھا مجھے تو چال کو تغیِیر کر لیا

نظروں کے تیر میں تھے وہ ابرو کمان کش

چپ چاپ میں نے دل بہ ہدف تیر کر لیا

Thursday, 6 May 2021

دیکھا تھا فقط زلف کو شانوں سے کمر تک

 دیکھا تھا فقط زُلف کو شانوں سے کمر تک

پائی نہ کہیں دل نے تو پھر اپنی خبر تک

قدموں میں تِرے بیٹھا ہے دلدار کی صورت

جو دل نہ گیا چل کے کسی راہ گزر تک

پھرتے ہیں وہ اکثر لیے آئینہ جہاں میں

دیکھا ہے جنہیں عشق نے حیرت کی نظر تک

Wednesday, 5 May 2021

یوں ستاروں میں گرفتار قمر لگتا ہے

 یوں ستاروں میں گرفتار قمر لگتا ہے

جیسے اُلجھا ہوا خود میں ہی بشر لگتا ہے

کیسی ہر شخص کے ماتھے پہ سجی ہے قیمت

شہر کا شہر ہی یوسف کا نگر لگتا ہے

بڑی زرخیز ہے مٹی بھی مِرے آنگن کی

نیا ہر رُت میں تمنا کا شجر لگتا ہے

Monday, 3 May 2021

میری شاعرہ کبھی تم جو میرے شہر میں آؤ

 میری شاعرہ


میری شاعرہ

کبھی تم جو میرے شہر میں آؤ

تو دیکھنا

ان راستوں کو

جن پر چلتے ہوئے میں نے تمہیں سوچا ہو گا

Sunday, 2 May 2021

آزاد تھی فطرت کے مناظر میں چبھن بھی

 آزاد تھی فطرت کے مناظر میں چبھن بھی

تابع اسی قانون کے تھا شہرِ بدن بھی

پنہاں مِرے باطن میں تھی اُس رمز کی بندش

رنگین ہے جس رمز سے کونینِ چمن بھی

آکاش سے بارش بھی پسینے کی طرح ہے

موسم کو ملا حبس، تو سینے کو گھٹن بھی

آپ مجھ کو نہ کسی اور بہانے پہ رکھیں

 آپ مجھ کو نہ کسی اور بہانے پہ رکھیں

بات دل کی، مِرے دل کے ہی نشانے پہ رکھیں

پہلے تو وصل کی ہر بات گنی پوروں پر

پھر کہا ہجر نے شعروں میں سنانے پہ رکھیں

مُدعا میں نے کہا دل کا، تو ہنس کر بولے

آپ کچھ ہوش و حواس اپنے ٹھکانے پہ رکھیں

Sunday, 18 April 2021

سلسلہ وار اڑے باعث آزار گئے

 سلسلہ وار اڑے باعثِ آزار گئے

یہ اداسی کے پرندے تو مجھے مار گئے

رہ گیا میں ہی اکیلا شبِ تنہائی میں

میرے زندانِ تعلق کے تو سب یار گئے

جاں گئی پر نہ گیا زلف کا سودا سر سے

لے کے اک وحشی تِرا ہم جو سرِ دار گئے

Thursday, 10 December 2020

اڑ کے جاتی ہے تو اب اے مشت خاک کہاں

 اڑ کے جاتی ہے تو اب اے مُشتِ خاک کہاں

دل کی وسعت کے برابر بھلا افلاک کہاں

آنکھ بے نور ہوئی ہے تو سمجھ پایا ہوں

دل میں زرخیز تمنا کی تھی خوراک کہاں

کشتئ جاں کو تھپیڑوں کے حوالے کر کے

لے کے پتوار ہُوا گم ترا پیراک کہاں؟