سلسلہ وار اڑے باعثِ آزار گئے
یہ اداسی کے پرندے تو مجھے مار گئے
رہ گیا میں ہی اکیلا شبِ تنہائی میں
میرے زندانِ تعلق کے تو سب یار گئے
جاں گئی پر نہ گیا زلف کا سودا سر سے
لے کے اک وحشی تِرا ہم جو سرِ دار گئے
پھر کبھی موت نے پایا ٹھکانہ میرا
کر کے ایسے مِرے ٹکڑے مِرے سرکار گئے
رخصت آنکھوں سے ہوئی خواب کی دنیا لیکن
عمر بھر دل سے خلش کے نہیں آثار گئے
اس کہانی میں کوئی کیسے بچھڑتا اکرام
جس کے کردار سبھی بر سرِ پیکار گئے
اکرام قاسمی
No comments:
Post a Comment