نقشِ قدم میں ڈھونڈ نہ رختِ سفر میں ڈھونڈ
منزل کو ڈھونڈنا ہے تو ذوقِ نظر میں ڈھونڈ
پھر ہار ہو یا جیت،۔ مقدر کی بات ہے
ہر لمحہ اپنی فتح کو عزم و ہُنر میں ڈھونڈ
منظر جو خُوش نما تھا چھُپا ہے غُبار میں
خوشیوں کو انتظار کی دنیا کے گھر میں ڈھونڈ
کرنا ہے تجھ کو نکہتِ گُل کو گرفت میں
کانٹوں میں چاہے ڈھونڈ یا برگ و ثمر میں ڈھونڈ
اک عمر سے سفر میں ہوں کاندھوں پہ گھر لیے
خانہ بدوش ہوں میں مجھے دشت و در میں ڈھونڈ
تُو اس چراغِ زیست کے بُجھنے سے پیشتر
عشق و جنوں کے رنگ کو دل کے شرر میں ڈھونڈ
وہ پل کہ جس کی آرزو تجھ کو ازل سے ہے
اس پل کو اے معید تُو خوابِ سحر میں ڈھونڈ
جہانگیر معید
No comments:
Post a Comment