Sunday, 18 April 2021

اے خدا تو نے بھی کس مان میں رکھ چھوڑے ہیں

 اے خدا تُو نے بھی کس مان میں رکھ چھوڑے ہیں

اپنے کچھ وصف جو انسان میں رکھ چھوڑے ہیں

لاج ان کی ذرا رکھ لے مِری بنجر دھرتی

اسم برکت کو جو کھلیان میں رکھ چھوڑے ہیں

مجھ کو ملہار سنانے نہیں دیتا کوئی

تُو نے وہ نوحے مِری تان میں رکھ چھوڑے ہیں

او ری دیوار! تجھے جھلینا ہوں گے یہ بھی

میں نے کچھ درد تِرے کان میں رکھ چھوڑے ہیں

مِرے سینے میں تو جا ہی نہیں ٹوٹے دل کی

سارے ٹکڑے تِرے سامان میں رکھ چھوڑے ہیں

اب مجھے ہارنا ہو گا کہ مِرے دشمن نے

اپنے ہتھیار مِری شان میں رکھ چھوڑے ہیں

حاکما!! تیری رعایا تو سبھی جانتی ہے

تُو نے جو فیصلے فرمان میں رکھ چھوڑے ہیں

اب یہ سمجھے ہیں جو ٹھوکر سے بڑھی بینائی

تُو نے کچھ فائدے نقصان میں رکھ چھوڑے ہیں


صائمہ اسحاق

No comments:

Post a Comment