Showing posts with label امیر فاروق آبادی. Show all posts
Showing posts with label امیر فاروق آبادی. Show all posts

Wednesday, 10 August 2022

میرا تو ہر قدم تری جانب وفا کا تھا

 میرا تو ہر قدم تری جانب وفا کا تھا

نشتر مگر چلایا جو تُو نے جفا کا تھا

کل پھر کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی

”انداز ہو بہو تِری آوازِ پا کا تھا“

میں نام لیتا تھا تِرا جب پیار سے صنم

تیرا جی کہنا مجھ کو، یہ نسخہ دوا کا تھا

Sunday, 24 July 2022

نگر وہ تیرا کہاں ہے تری گلی کیا ہے

 نگر وہ تیرا کہاں ہے، تِری گلی کیا ہے

جہاں وجود ہو تیرا، وہاں پری کیا ہے

نہ پھول کوئی بشاشت میں تیرے رخ جیسا

گلاب کیا ہے، کنول کیا ہے اور کلی کیا ہے

تِرے ہی رخ سے روشن ہے تابشِ مہ بھی

ہو نور جو تِرے چہرے کا چاندنی کیا ہے

Sunday, 17 July 2022

نہ تم ہمارے رہے نہ ہم تمہارے رہے

 نہ تم ہمارے رہے نہ ہم تمہارے رہے

نہ دید تیری رہی، نہ وہ نظارے رہے

نہ آسِ وصل رہی، نہ پیاسِ عشق رہی

رہے تو بس تِری یاد کے سہارے رہے

وہ خوبرو تِرے جیسا دنیا میں نہ ہو گا

وہ سامنے تِرے چھپ کے چاند تارے رہے

Friday, 1 April 2022

ادراک خدا ملا تیری تقدیر میں نہیں

 ادراک خدا مُلا تیری تقدیر میں نہیں

نقطۂ توحید تیری تحریر میں نہیں

وہ باتیں جو کتاب مقدس ہیں

وہ قطعاً مُلا کی تقریر میں نہیں

عبس ہے جوش خطابت مُلا تیرا

فہمم کلامِ خدا تیرے خمیر میں نہیں

Sunday, 27 March 2022

کبھی خوشی تو کبھی غم ہے دار فانی میں

 کبھی خوشی تو کبھی غم ہے دار فانی میں

کبھی ہے پیری کا دُکھ اور سُکھ جوانی میں

بنائے ہیں تُو نے ارضی خدا ہزاروں یاں

مگر حقیقی خدا تو ہے ہر نشانی میں

سناتا پھرتا ہے فرضی کہانیاں واعظ

وہ چشم پوش ہے اکثر ہی حق بیانی میں

Saturday, 26 March 2022

جو ماہر تھے کسی فن کے وہی بے کار بیٹھے ہیں

 جو ماہر تھے کسی فن کے وہی بے کار بیٹھے ہیں

جو تھے بے کار ہر فن میں بنے فنکار بیٹھے ہیں

نہیں آتا جہاں میں اب عصا لے کر کوئی موسیٰ

ہزاروں اب تو یاں فرعون کے اوتار بیٹھے ہیں

نہ ہی اب ٹھنڈی ہوتی ہے نہ ہی گلزار بنتی ہے

زمانے بھر کے کافر دہکا کے انگار بیٹھے ہیں

Friday, 25 March 2022

نہ تربیت ہے بچوں کی نہ روٹی ہے نہ پانی ہے

 نہ تربیت ہے بچوں کی، نہ روٹی ہے، نہ پانی ہے

ملازم بیوی ہو جس گھر میں اس گھر کی کہانی ہے

زمانے بھر میں گاڑے ہیں جو پنجے بے حجابی نے

بلا اتری ہے گھر گھر میں، وہ آفتِ آ سمانی ہے

نظام شمسی گردش میں ہے مُلا کو خبر کیا ہے

ستارے ہیں سفر سائنس،۔ مُلا آستانی ہے