میرا تو ہر قدم تری جانب وفا کا تھا
نشتر مگر چلایا جو تُو نے جفا کا تھا
کل پھر کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی
”انداز ہو بہو تِری آوازِ پا کا تھا“
میں نام لیتا تھا تِرا جب پیار سے صنم
تیرا جی کہنا مجھ کو، یہ نسخہ دوا کا تھا
میرا تو ہر قدم تری جانب وفا کا تھا
نشتر مگر چلایا جو تُو نے جفا کا تھا
کل پھر کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی
”انداز ہو بہو تِری آوازِ پا کا تھا“
میں نام لیتا تھا تِرا جب پیار سے صنم
تیرا جی کہنا مجھ کو، یہ نسخہ دوا کا تھا
نگر وہ تیرا کہاں ہے، تِری گلی کیا ہے
جہاں وجود ہو تیرا، وہاں پری کیا ہے
نہ پھول کوئی بشاشت میں تیرے رخ جیسا
گلاب کیا ہے، کنول کیا ہے اور کلی کیا ہے
تِرے ہی رخ سے روشن ہے تابشِ مہ بھی
ہو نور جو تِرے چہرے کا چاندنی کیا ہے
نہ تم ہمارے رہے نہ ہم تمہارے رہے
نہ دید تیری رہی، نہ وہ نظارے رہے
نہ آسِ وصل رہی، نہ پیاسِ عشق رہی
رہے تو بس تِری یاد کے سہارے رہے
وہ خوبرو تِرے جیسا دنیا میں نہ ہو گا
وہ سامنے تِرے چھپ کے چاند تارے رہے
ادراک خدا مُلا تیری تقدیر میں نہیں
نقطۂ توحید تیری تحریر میں نہیں
وہ باتیں جو کتاب مقدس ہیں
وہ قطعاً مُلا کی تقریر میں نہیں
عبس ہے جوش خطابت مُلا تیرا
فہمم کلامِ خدا تیرے خمیر میں نہیں
کبھی خوشی تو کبھی غم ہے دار فانی میں
کبھی ہے پیری کا دُکھ اور سُکھ جوانی میں
بنائے ہیں تُو نے ارضی خدا ہزاروں یاں
مگر حقیقی خدا تو ہے ہر نشانی میں
سناتا پھرتا ہے فرضی کہانیاں واعظ
وہ چشم پوش ہے اکثر ہی حق بیانی میں
جو ماہر تھے کسی فن کے وہی بے کار بیٹھے ہیں
جو تھے بے کار ہر فن میں بنے فنکار بیٹھے ہیں
نہیں آتا جہاں میں اب عصا لے کر کوئی موسیٰ
ہزاروں اب تو یاں فرعون کے اوتار بیٹھے ہیں
نہ ہی اب ٹھنڈی ہوتی ہے نہ ہی گلزار بنتی ہے
زمانے بھر کے کافر دہکا کے انگار بیٹھے ہیں
نہ تربیت ہے بچوں کی، نہ روٹی ہے، نہ پانی ہے
ملازم بیوی ہو جس گھر میں اس گھر کی کہانی ہے
زمانے بھر میں گاڑے ہیں جو پنجے بے حجابی نے
بلا اتری ہے گھر گھر میں، وہ آفتِ آ سمانی ہے
نظام شمسی گردش میں ہے مُلا کو خبر کیا ہے
ستارے ہیں سفر سائنس،۔ مُلا آستانی ہے