میرا تو ہر قدم تری جانب وفا کا تھا
نشتر مگر چلایا جو تُو نے جفا کا تھا
کل پھر کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی
”انداز ہو بہو تِری آوازِ پا کا تھا“
میں نام لیتا تھا تِرا جب پیار سے صنم
تیرا جی کہنا مجھ کو، یہ نسخہ دوا کا تھا
تُو نے کہا تھا مجھ کو دعا بھی دیا کرو
تیرے لیے مگر مِرا ہر دن دعا کا تھا
حوریں نہ پریاں اور نہ ہی چاند تارے تھے
روشن جو چہرہ تھا وہ مِری دلربا کا تھا
کیا تیرے بھی وجود کا تھا حرف کن وہی
سب خوباں کے جنم کے لیے جو خدا کا تھا
خود سر بھی تھا امیر وہ ضدی بھی تھا بہت
محبوب میرا جو بھی تھا، پیکر حیا کا تھا
امیر فاروق آبادی
No comments:
Post a Comment