سوہانِ روح شورشِ انفاس چھین لے
اللہ، میری شدتِ احساس چھین لے
دل سے خیال و خواب کی بُو باس چھین لے
جو بے اساس ہو وہ ہر اک آس چھین لے
دے مجھ کو میرے آج میں جینے کا حوصلہ
کل کے حسین ہونے کا احساس چھین لے
سوہانِ روح شورشِ انفاس چھین لے
اللہ، میری شدتِ احساس چھین لے
دل سے خیال و خواب کی بُو باس چھین لے
جو بے اساس ہو وہ ہر اک آس چھین لے
دے مجھ کو میرے آج میں جینے کا حوصلہ
کل کے حسین ہونے کا احساس چھین لے
آرزوئیں کمال آمادہ
زندگانی زوال آمادہ
زندگی تشنۂ مجال جواب
لمحہ لمحہ سوال آمادہ
زخم کھا کر بپھر رہی ہے انا
عاجزی ہے جلال آمادہ
تھے مِرے زخموں کے آئینے تمام
داغ داغ آئے نظر سینے تمام
سب نظر آتے ہیں چہرے گرد گرد
کیا ہوئے بے آب آئینے تمام
ایک منزل اور ہے اک جست اور
آدمی طے کر چکا زینے تمام
کی نظر میں نے جب احساس کے آئینے میں
اپنا دل پایا دھڑکتا ہوا ہر سینے میں
مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے
پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں
اپنے کاندھوں پہ لیے پھرتا ہوں اپنی ہی صلیب
خود مِری موت کا ماتم ہے مِرے جینے میں
ہر اک کمال کو دیکھا جو ہم نے رو بہ زوال
سسک کے رہ گئی سینے میں آرزوئے کمال
ہم اپنی ڈوبتی قدروں کے ساتھ ڈوب گئے
ملے گی اب تو کتابوں میں بس ہماری مثال
ہوئے انا کے دکھاوے سے لوگ سر افراز
انا نے سر کو اٹھا کر کِیا ہمیں پامال
گریز
دل کے ویرانے میں پھر آج تِری یاد آئی
پھر معطر ہے تِری زلف کی خوشبو سے دماغ
پھر ہیں مہکے ہوئے تیرے لب و رُخسار کے باغ
پھر خیالوں پہ تِرے قرب کی حسرت چھائی
آج پھر دشمن ایماں ہے تِری انگڑائی