Showing posts with label حنیف کیفی. Show all posts
Showing posts with label حنیف کیفی. Show all posts

Sunday, 30 April 2023

سوہان روح شورش انفاس چھین لے

 سوہانِ روح شورشِ انفاس چھین لے

اللہ، میری شدتِ احساس چھین لے

دل سے خیال و خواب کی بُو باس چھین لے

جو بے اساس ہو وہ ہر اک آس چھین لے

دے مجھ کو میرے آج میں جینے کا حوصلہ

کل کے حسین ہونے کا احساس چھین لے

Sunday, 13 June 2021

آرزوئیں کمال آمادہ زندگانی زوال آمادہ

 آرزوئیں کمال آمادہ

زندگانی زوال آمادہ

زندگی تشنۂ مجال جواب

لمحہ لمحہ سوال آمادہ

زخم کھا کر بپھر رہی ہے انا

عاجزی ہے جلال آمادہ

Thursday, 10 June 2021

تھے مرے زخموں کے آئینے تمام

 تھے مِرے زخموں کے آئینے تمام

داغ داغ آئے نظر سینے تمام

سب نظر آتے ہیں چہرے گرد گرد

کیا ہوئے بے آب آئینے تمام

ایک منزل اور ہے اک جست اور

آدمی طے کر چکا زینے تمام

Tuesday, 8 June 2021

کی نظر میں نے جب احساس کے آئینے میں

 کی نظر میں نے جب احساس کے آئینے میں 

اپنا دل پایا دھڑکتا ہوا ہر سینے میں 

مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے 

پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں 

اپنے کاندھوں پہ لیے پھرتا ہوں اپنی ہی صلیب 

خود مِری موت کا ماتم ہے مِرے جینے میں 

ہر اک کمال کو دیکھا جو ہم نے رو بہ زوال

 ہر اک کمال کو دیکھا جو ہم نے رو بہ زوال

سسک کے رہ گئی سینے میں آرزوئے کمال

ہم اپنی ڈوبتی قدروں کے ساتھ ڈوب گئے

ملے گی اب تو کتابوں میں بس ہماری مثال

ہوئے انا کے دکھاوے سے لوگ سر افراز

انا نے سر کو اٹھا کر کِیا ہمیں پامال

Wednesday, 2 June 2021

دل کے ویرانے میں پھر آج تری یاد آئی

 گریز


دل کے ویرانے میں پھر آج تِری یاد آئی

پھر معطر ہے تِری زلف کی خوشبو سے دماغ

پھر ہیں مہکے ہوئے تیرے لب و رُخسار کے باغ

پھر خیالوں پہ تِرے قرب کی حسرت چھائی

آج پھر دشمن ایماں ہے تِری انگڑائی