Tuesday, 8 June 2021

کی نظر میں نے جب احساس کے آئینے میں

 کی نظر میں نے جب احساس کے آئینے میں 

اپنا دل پایا دھڑکتا ہوا ہر سینے میں 

مدتیں گزریں ملاقات ہوئی تھی تم سے 

پھر کوئی اور نہ آیا نظر آئینے میں 

اپنے کاندھوں پہ لیے پھرتا ہوں اپنی ہی صلیب 

خود مِری موت کا ماتم ہے مِرے جینے میں 

اپنے انداز سے اندازہ لگایا سب نے 

مجھ کو یاروں نے غلط کر لیا تخمینے میں 

اپنی جانب نہیں اب لوٹنا ممکن میرا 

ڈھل گیا ہوں میں سراپا تِرے آئینے میں 

ایک لمحے کو ہی آ جائے میسر کیفی

وہ نظر جو مجھے دیکھے مِرے آئینے میں 


حنیف کیفی

No comments:

Post a Comment