مشامِ جاں میں تِرے خد و خال کی خُوشبو
فراق میں بھی مسلسل وصال کی خوشبو
اندھیری شب میں مجھے راستہ دکھاتی ہے
مسافتوں میں مِرے خوش جمال کی خوشبو
یہ ہاتھ زخمِ بہاراں کے خار و گُل چُن کر
سنبھالتے رہے آب و سفال کی خوشبو
اسے حصارِ محبت میں قید رکھتی ہے
مِری ردا کی مہک میری شال کی خوشبو
سدا بہار کا موسم بنائے رکھتی ہے
یہ زخمِ دل کی مہک، اندمال کی خوشبو
اتر چکی ہے مِرے نقرئ سے خوابوں میں
پاک سخن وہ بنفشی خیال کی خوشبو
پہنچ گئی ہوں یقیناً سرِ مدینۂ عشق
مِرے وجود میں اُتری کمال کی خوشبو
جگا رہی بیت بے قرارئ جاں کو
دیارِ غیر میں بادِ شمال کی خوشبو
کہیں بھی ہو مِرے بچپن کو ڈھونڈ لائے گی
وہ ماں کے ہاتھ کی ارہر کی دال کی خوشبو
سوادِ شامِ الم کو بڑھا گئی ثروت
ہوائے ہجر میں پنہاں ملال کی خوشبو
ثروت رضوی
No comments:
Post a Comment