پہلے تاریکی سے ڈرا بھی دیا
اور پھر مجھ کو اک دِیا بھی دیا
تُو نے ہر بار کی طرح مجھ کو
ہار جانے کا مشورہ بھی دیا
پہلے محرومیاں گنائیں مِری
پھر مجھے تھوڑا حوصلہ بھی دیا
آگے خطرہ ہے یہ کہا، اور پھر
لوٹ جانے کا راستہ بھی دیا
میں کہاں باز آنے والا تھا
اس بلندی پہ مسکرا بھی دیا
جانے کیا سوچ کر لکھا اس نے
جانے کیا سوچ کر مٹا بھی دیا
اس نے مجھ سے کہا کہاں ہے وہ
اور میں نے اسے بتا بھی دیا
تھپکیاں دی تھیں اس نے جاتے ہوئے
دلبری بھی کی، دل دُکھا بھی دیا
عمران شمشاد
No comments:
Post a Comment