طلسم
کچی بل کھاتی دور تلک جاتی پگڈنڈی
کھجوروں کے جھُنڈ میں اُبھرتا گول چاند
پورے چاند کی پھیلی روپہلی چاندنی
خُنک رازدار خاموش سی
پتھروں پر چُپکے چُپکے سرسراتی، چونکاتی ہوا
خُشک جھاڑی کا گہرا سایہ
ٹہنی پہ لرزتی، جی دھڑکاتی منت کی کالی دھجّی
چُنری کا چنچل گوٹا
لونگ کا لشکارا
کسمساتی چُوڑی کی سنہری کھنک
شوخ پائل کی باغی چھنک
شرمیلی مُسکان
اور پھر
ہاتھوں میں کُھلی چہرے کی کتاب
پسلیوں کے بیچ اندیکھا دھمال
دُور، بہت دُور کسی پہاڑ کے دامن میں
جوگی کی بانسری کے سُروں کے بیچ
ڈھیروں انکہی باتیں
اور بس ہم دونوں
زارا مظہر
No comments:
Post a Comment