یہ کون آیا کہ ماحول کیا سے کیا ہُوا ہے
جہاں جہاں پہ تھا پتھر، وہ آئینہ ہوا ہے
فنا بھی اس کو ہو شاید سکون کا باعث
یہ دل کہ عشق میں دُشمن کے مبتلا ہوا ہے
اسے تو پُھولنا، پھلنا ہے تا دمِ آخر
یہ غم نصیب کے اندر کہیں اُگا ہوا ہے
یہ کون آیا کہ ماحول کیا سے کیا ہُوا ہے
جہاں جہاں پہ تھا پتھر، وہ آئینہ ہوا ہے
فنا بھی اس کو ہو شاید سکون کا باعث
یہ دل کہ عشق میں دُشمن کے مبتلا ہوا ہے
اسے تو پُھولنا، پھلنا ہے تا دمِ آخر
یہ غم نصیب کے اندر کہیں اُگا ہوا ہے
ساتھ میرے کبھی دو روز گزارے ہوتے
تیری آنکھوں میں بھی دو چار ستارے ہوتے
میرے کالر پہ بھی اک پھول دکھائی دیتا
تیری چادر پہ بھی آکاش کے تارے ہوتے
ڈوبتا میں بھی تیرے پیار کے دریاؤں میں
دور تجھ سے بھی زمانے کے کنارے ہوتے