Showing posts with label عارف فرہاد. Show all posts
Showing posts with label عارف فرہاد. Show all posts

Saturday, 28 October 2023

یہ کون آیا کہ ماحول کیا سے کیا ہوا ہے

 یہ کون آیا کہ ماحول کیا سے کیا ہُوا ہے

جہاں جہاں پہ تھا پتھر، وہ آئینہ ہوا ہے

فنا بھی اس کو ہو شاید سکون کا باعث

یہ دل کہ عشق میں دُشمن کے مبتلا ہوا ہے

اسے تو پُھولنا، پھلنا ہے تا دمِ آخر

یہ غم نصیب کے اندر کہیں اُگا ہوا ہے

Tuesday, 28 June 2022

ساتھ میرے کبھی دو روز گزارے ہوتے

 ساتھ میرے کبھی دو روز گزارے ہوتے

تیری آنکھوں میں بھی دو چار ستارے ہوتے

میرے کالر پہ بھی اک پھول دکھائی دیتا

تیری چادر پہ بھی آکاش کے تارے ہوتے

ڈوبتا میں بھی تیرے پیار کے دریاؤں میں

دور تجھ سے بھی زمانے کے کنارے ہوتے

Friday, 4 November 2016

میرے کوزہ گر کا یہ مشغلہ پرانا ہے

میرے کوزہ گر کا یہ مشغلہ پرانا ہے
توڑ پھوڑ کر اس نے پھر مجھے بنانا ہے
دل نے تیری یادوں کے پھول چن کے لانے ہیں
اور ان کو یادوں کی شال پر لگانا ہے
ہاں کبھی کبھی دل میں چاندنی اترتی ہے
اور ایسا لگتا ہے، تُو نے ملنے آنا ہے

میرے کوزہ گر مجھے ڈھانپ لینا ہے آگ نے

میرے کوزہ گر

مجھے ڈھانپ لینا ہے آگ نے مجھے چاک سے نہ اتارنا
تو بنا کے پھر سے بگاڑ دے مجھے چاک سے نہ اتارنا
روں کوزہ گر تِرے سامنے مجھے چاک سے نہ اتارنا
تِری ”چوبِ چاک“ کی گردشیں مِرے آب و گِل میں اتر گئیں
مِرے پاؤں ڈوری سے کاٹ کے مجھے چاک سے نہ اتارنا
تِری انگلیاں مِرے جسم میں یونہی لمس بن کے گڑی رہیں

صحرا و دشت و بحر کی زنجیر کھول دے

صحرا و دشت و بحر کی زنجیر کھول دے
پردے اٹھا، جہان کی تصویر کھول دے
سوچا ہے ایک عمر تجھے خواب خواب میں
مجھ پر اب ایک لمحۂ تعبیر کھول دے
یا تو نیا شعور عطا کر اس آنکھ کو
یا آسمان پر نئی تصویر کھول دے

بے ترتیب ادھورے خوابوں جیسے ہیں

بے ترتیب ادھورے خوابوں جیسے ہیں
صحرا میں ہم لوگ سرابوں جیسے ہیں
اس نے کہا اب زخم تمہارے کیسے ہیں
میں نے کہا بس تازہ گلابوں جیسے ہیں
دیکھنے میں وہ دریا جیسا ہے، لیکن
اس کے وعدے خواب سرابوں جیسے ہیں

عجب ہے کیا عجب ہے

عجب ہے، کیا عجب ہے
تا ابد پھیلا ہوا حیرت کدہ
حیرت کدے میں
تا ابد پھیلا ہوا دریا
تِری بینائی کا یہ مست اور رنگین دریا
اور تِرے اس مست اور رنگین دریا کے تعاقب میں

Saturday, 22 March 2014

خواب ترے وصال کے ہجر کے نام کر دیئے

خواب تِرے وصال کے ہجر کے نام کر دیئے
شاخچۂ خیال پر پُھول اُدھر اُدھر کِھلے
موسمِ نارسائی نے زخم جِدھر جِدھر دیئے
میں نے کہا بُجھا نہ دے تیری یہ بے رُخی مجھے
اُس نے جلا کے رکھ دیئے کتنے ہی بام پر دِیئے
میں نے کہا کہ پُھول ہو، پُھول سی بات کیجیو

بجا کہ زیست میں تیری نہیں ہیں شامل پر

بجا کہ زیست میں تیری نہیں ہیں شامل پر
کبھی مِلے تھے تجھے ہم بھی دل کے ساحل پر
پرکھ چکا ہوں بہر طور چاک پر اِس کو
کچھ انکشاف کر اپنا بھی اب مِری گِل پر
خدایا خیر! بھلایا ہوا ہے کیوں مجھ کو
کئی دنوں سے مصیبت نہیں پڑی دل پر

محبت کچھ نہیں ہوتی

محبت کچھ نہیں ہوتی
فقط اک دشت ہوتا ہے اندھیرے کا
کہ جس میں
اک جنوں انگیز موسم
اپنی آنکھوں میں
کسی کا

Friday, 25 January 2013

بے ضمیر لوگوں کے ظلم کم نہیں ہوتے

بے ضمیر لوگوں کے ظلم کم نہیں ہوتے
پگڑیاں اچھلتی ہیں،سر تو خم نہیں ہوتے
جسم پر دُکھوں کی لَو، کر گئی اثر کیسا؟
پَیرہن بدل کر بھی رنج کم نہیں ہوتے
دن کی روشنی ہو یا رات کا اندھیرا ہو
سر انا پرستوں کے کب قلم نہیں ہوتے

Thursday, 26 July 2012

تیری نظر کا معجزہ کرب کو یوں بدل گیا

تیری نظر کا معجزہ، کرب کو یوں بدل گیا
قطرۂ اشک آنکھ سے بن کے گُہر اُچھل گیا
میں تو خزاں کے بعد بھی برگ سمیٹتا رہا
وہ تو عجیب شخص تھا، رنگ کئی بدل گیا
دشمنِ جاں کے قتل میں میرا ہُنر تو کچھ نہ تھا
تیر ہی بس کمان سے، اُس کی طرف نِکل گیا