Friday, 4 November 2016

بے ترتیب ادھورے خوابوں جیسے ہیں

بے ترتیب ادھورے خوابوں جیسے ہیں
صحرا میں ہم لوگ سرابوں جیسے ہیں
اس نے کہا اب زخم تمہارے کیسے ہیں
میں نے کہا بس تازہ گلابوں جیسے ہیں
دیکھنے میں وہ دریا جیسا ہے، لیکن
اس کے وعدے خواب سرابوں جیسے ہیں
ان کو پھولوں کے تحفے کیا بھیجیں ہم
وہ تو خود ہی سرخ گلابوں جیسے ہیں
جب سے ملا ہے اسکے پیار کا فیض مجھے
تب سے یہ دن رات عذابوں جیسے ہیں
دیکھ ہم اکثر موج میں رہتے ہیں فرہادؔ
اسی لئے سب دوست حبابوں جیسے ہیں

عارف فرہاد

No comments:

Post a Comment