Showing posts with label احمد ندیم قاسمی. Show all posts
Showing posts with label احمد ندیم قاسمی. Show all posts

Wednesday, 14 May 2025

وطن پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو

 رزمیہ ملی ترانہ


وطنِ پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو

مجھے خود اپنے نغموں سے بھی پیارے تم ہو

وطنِ پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو


کتنے پامرد ہو تم، کتنے جری، کتنے کریم

مجھ سے پوچھو تو کہ دراصل تم ہو کتنے عظیم

وطنِ پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو

Tuesday, 14 May 2024

دل میں اترتے حرف سے مجھ کو ملا پتا ترا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دل میں اترتے حرف سے مجھ کو ملا پتا تِرا 

معجزہ حسنِ صوت کا، زمزمۂ صدا ترا

میرا کمال فن، تِرے حسن کلام کا غلام 

بات تھی جانفزا تِری، لہجہ تھا دلربا ترا 

جاں تِری سر بہ سر جمال! دل تِرا، آئینہ مثال 

تجھ کو تِرے عدُو نے بھی دیکھا تو ہو گیا ترا 

Sunday, 12 May 2024

مجھ کو تو اپنی جان سے بھی پیارا ہے ان کا نام

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مجھ کو تو اپنی جاں سے بھی پیارا ہے ان کا نام 

شب ہے اگر حیات ، ستارا ہے ان کا نام 

تنہائی کس طرح مجھے محصور کر سکے 

جب میرے دل میں انجمن آرا ہے ان کا نام

ہر شخص کے دکھوں کا مداوا ہے ان کی ذات 

سب پا شکستگاں کا سہارا ہے ان کا نام

Sunday, 15 October 2023

طے کروں گا یہ اندھیرا میں اکیلا کیسے

 طے کروں گا یہ اندھیرا میں اکیلا کیسے

میرے ہمراہ چلے گا میرا سایا کیسے

میری آنکھوں کی چکا چوند بتا سکتی ہے

جس کو دیکھا ہی نہ جائے، اُسے دیکھا کیسے

چاندنی اُس سے لپٹ جائے، ہوائیں چھیڑیں

کوئی رہ سکتا ہے دنیا میں اچُھوتا کیسے

Thursday, 27 July 2023

لب پر شہداء کے تذکرے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


لب پر شہداء کے تذکرے ہیں

لفظوں کے چراغ جل رہے ہیں

جن پہ گزری ہے ان سے پوچھو

ہم لوگ تو صرف سوچتے ہیں

میدان کا دل دہک رہا ہے

دریاؤں کے ہونٹ جل رہے ہیں

Saturday, 20 May 2023

دنیا ہے ایک دشت تو گلزار آپ ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دنیا ہے ایک دشت تو گلزار آپﷺ ہیں

اس تیرگی میں مطلعِ انوار آپﷺ ہیں

یہ بھی ہے سچ کہ آپﷺ کی گفتار ہے جمیل

یہ بھی ہے حق کہ صاحبِ کردار آپﷺ ہیں

ہو لاکھ آفتابِ قیامت کی دھوپ تیز

میرے لیے تو سایۂ دیوار آپﷺ ہیں

Thursday, 27 April 2023

کشمیر زخموں سے اٹا ہوا بدن ہے

 کشمیر


پھولوں نے چھپا رکھا ہے، ورنہ

زخموں سے اَٹا ہوا بدن ہے

ہونٹوں پہ رکے ہوئے ہیں شعلے

آنکھوں میں جمی ہوئی جلن ہے

پھیلا ہوا ہاتھ برہمن کا

اس چاند کا مستقل گہن ہے

Saturday, 10 December 2022

زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیں

 ایک درخواست


زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیں 

دیکھنا حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہے 

سوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے 

آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہے 

کیوں بھی کہنا جرم ہے کیسے بھی کہنا جرم ہے 

Saturday, 8 October 2022

نہیں ہمرہو یہ مناسب نہیں ہے

 نا مناسب


نہیں ہمرہو، یہ مناسب نہیں ہے

یہ تہذیب کی ایک ایسی نفی ہے

کہ تہذیبِ آئندہ کے پاس بھی

اس کے اثبات کا کوئی پہلو نہ ہو گا

اصولوں کی لاشوں کو

Friday, 23 September 2022

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا

کچھ نہیں سُوجھتا جب پیاس کی شدت سے مجھے

چھلک اٹھتا ہے میری روح میں مینا تیرا

پورے قد سے میں کھڑا ہوں تو یہ ہے تیرا کرم

مجھ کو جُھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا

Thursday, 22 September 2022

قطرہ مانگے جو کوئی تو اسے دریا دے دے

 عارفانہ کلام حمدیہ و نعتیہ کلام


قطرہ مانگے جو کوئی، تُو اسے دریا دے دے

مجھ کو کچھ اور نہ دے، اپنیؐ تمنا دے دے

میں تو تجھؐ سے فقط اک نقشِ کفِ پا چاہوں

تُوؐ جو چاہے تو مجھے جنتِ ماویٰ دے دے

وہ جو آسودگی چاہیں، انہیں آسودہ کر

بے قراری کی لطافت، مجھے تنہا دے دے

Tuesday, 30 August 2022

کفر نے رات کا ماحول بنا رکھا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کُفر نے رات کا ماحول بنا رکھا ہے

میرے سینے میں محمدﷺ کا دِیا رکھا ہے

وہؐ جو مِل جائے، تو بیشک مجھے جنت نہ مِلے

عشق کو اجر کے لالچ سے بچا رکھا ہے

خواب میں وہؐ نظر آئے تو پھر آنکھیں نہ کُھلیں

میں نے مُدت سے یہ منصوبہ بنا رکھا ہے

Saturday, 16 July 2022

میں مدینے سے پلٹ آیا ہوں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میں کہ بے وقعت و بے مایہ ہوں​

تیریﷺ محفل میں چلا آیا ہوں​

آج ہوں میں تیراؐ دہلیز نشین​

آج میں عرش کا ہم پایہ ہوں​

چند پل یوں تیریؐ قربت میں کٹے​

جیسے اک عمر گزار آیا ہوں

Tuesday, 3 May 2022

عشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گا

 عشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گا

جو میری آنکھ سے ٹپکا، تیرا آنسو ہو گا​

ایک پل کو تیری یاد آئے تو میں سوچتا ہوں

خواب کے دشت میں بھٹکا ہوا آہُو ہو گا​

تجھ کو محسوس کروں، مس نہ مگر کر پاؤں

کیا خبر تھی کہ تو اک پیکرِ خوشبو ہو گا

Saturday, 11 December 2021

میں کہ بے وقعت و بے مایہ ہوں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میں کہ بے وقعت و بے مایہ ہوں​

تیریﷺ محفل میں چلا آیا ہوں​

آج ہوں میں تیرا دہلیز نشین​

آج میں عرش کا ہم پایہ ہوں​

چند پل یوں تیری قربت میں کٹے​

جیسے اک عمر گزار آیا ہوں

Thursday, 25 February 2021

شان عطا کو تیری عطا کی خبر نہ ہو

شانِ عطا کو، تیری عطا کی خبر نہ ہو

یوں بھیک دے، کہ دستِ گدا کو خبر نہ ہو

چُپ ہوں کہ چُپ کی داد پہ ایمان ہے مِرا 

مانگوں دُعا جو میرے خدا کو خبر نہ ہو

کر شوق سے شکایتِ محرومئ وفا 

لیکن مِرے غرورِ وفا کو خبر نہ ہو

Saturday, 3 October 2020

جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رلائیں

 جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رلائیں

ممکن ہے کہ ہم آپ کو پھر یاد نہ آئیں

ہم چھیڑ تو دیں گے ترا محبوب فسانہ

کھنچ آئیں گی فردوس کی مدہوش فضائیں

پھر تشنہ لبی زخم کی دیکھی نہیں جاتی

پھر مانگ رہا ہوں ترے آنے کی دعائیں

Monday, 28 September 2020

تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے

 تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے

کبھی جھانکا تری آنکھوں میں تو ہم ہی ہم تھے

لمس کے دم سے بصارت بھی، بصیرت بھی ملی

چھو کے دیکھا تو جو پتھر تھے نرے ریشم تھے

تیری یادیں کبھی ہنستی تھیں، کبھی روتی تھیں

میرے گھر کے یہی ہیرے تھے، یہی نیلم تھے

Thursday, 13 August 2020

وہ تمام دن وہ تمام غم جو گزرگئے ہمیں یاد ہیں

وہ تمام دن
وہ تمام غم
جو گزرگئے
ہمیں یاد ہیں
ہمیں یاد ہیں
وہ تمام دن وہ تمام غم

Monday, 16 July 2018

دل میں اترتے حرف سے مجھ کو ملا پتا ترا

 دل میں اترتے حرف سے مجھ کو ملا پتا تِرا

معجزہ حسنِ صوت کا، زمزمہِ صدا ترا

میرا کمال فن، تِرے حسن کلام کا غلام

بات تھی جانفزا تِری، لہجہ تھا دلربا ترا

جاں تِری سر بہ سر جمال! دل تِرا، آئینہ مثال

تجھ کو تِرے عدُو نے بھی دیکھا تو ہو گیا ترا