رزمیہ ملی ترانہ
وطنِ پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو
مجھے خود اپنے نغموں سے بھی پیارے تم ہو
وطنِ پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو
کتنے پامرد ہو تم، کتنے جری، کتنے کریم
مجھ سے پوچھو تو کہ دراصل تم ہو کتنے عظیم
وطنِ پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو
رزمیہ ملی ترانہ
وطنِ پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو
مجھے خود اپنے نغموں سے بھی پیارے تم ہو
وطنِ پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو
کتنے پامرد ہو تم، کتنے جری، کتنے کریم
مجھ سے پوچھو تو کہ دراصل تم ہو کتنے عظیم
وطنِ پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دل میں اترتے حرف سے مجھ کو ملا پتا تِرا
معجزہ حسنِ صوت کا، زمزمۂ صدا ترا
میرا کمال فن، تِرے حسن کلام کا غلام
بات تھی جانفزا تِری، لہجہ تھا دلربا ترا
جاں تِری سر بہ سر جمال! دل تِرا، آئینہ مثال
تجھ کو تِرے عدُو نے بھی دیکھا تو ہو گیا ترا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مجھ کو تو اپنی جاں سے بھی پیارا ہے ان کا نام
شب ہے اگر حیات ، ستارا ہے ان کا نام
تنہائی کس طرح مجھے محصور کر سکے
جب میرے دل میں انجمن آرا ہے ان کا نام
ہر شخص کے دکھوں کا مداوا ہے ان کی ذات
سب پا شکستگاں کا سہارا ہے ان کا نام
طے کروں گا یہ اندھیرا میں اکیلا کیسے
میرے ہمراہ چلے گا میرا سایا کیسے
میری آنکھوں کی چکا چوند بتا سکتی ہے
جس کو دیکھا ہی نہ جائے، اُسے دیکھا کیسے
چاندنی اُس سے لپٹ جائے، ہوائیں چھیڑیں
کوئی رہ سکتا ہے دنیا میں اچُھوتا کیسے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
لب پر شہداء کے تذکرے ہیں
لفظوں کے چراغ جل رہے ہیں
جن پہ گزری ہے ان سے پوچھو
ہم لوگ تو صرف سوچتے ہیں
میدان کا دل دہک رہا ہے
دریاؤں کے ہونٹ جل رہے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دنیا ہے ایک دشت تو گلزار آپﷺ ہیں
اس تیرگی میں مطلعِ انوار آپﷺ ہیں
یہ بھی ہے سچ کہ آپﷺ کی گفتار ہے جمیل
یہ بھی ہے حق کہ صاحبِ کردار آپﷺ ہیں
ہو لاکھ آفتابِ قیامت کی دھوپ تیز
میرے لیے تو سایۂ دیوار آپﷺ ہیں
کشمیر
پھولوں نے چھپا رکھا ہے، ورنہ
زخموں سے اَٹا ہوا بدن ہے
ہونٹوں پہ رکے ہوئے ہیں شعلے
آنکھوں میں جمی ہوئی جلن ہے
پھیلا ہوا ہاتھ برہمن کا
اس چاند کا مستقل گہن ہے
ایک درخواست
زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیں
دیکھنا حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہے
سوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے
آسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہے
کیوں بھی کہنا جرم ہے کیسے بھی کہنا جرم ہے
نا مناسب
نہیں ہمرہو، یہ مناسب نہیں ہے
یہ تہذیب کی ایک ایسی نفی ہے
کہ تہذیبِ آئندہ کے پاس بھی
اس کے اثبات کا کوئی پہلو نہ ہو گا
اصولوں کی لاشوں کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
کچھ نہیں سُوجھتا جب پیاس کی شدت سے مجھے
چھلک اٹھتا ہے میری روح میں مینا تیرا
پورے قد سے میں کھڑا ہوں تو یہ ہے تیرا کرم
مجھ کو جُھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا
عارفانہ کلام حمدیہ و نعتیہ کلام
قطرہ مانگے جو کوئی، تُو اسے دریا دے دے
مجھ کو کچھ اور نہ دے، اپنیؐ تمنا دے دے
میں تو تجھؐ سے فقط اک نقشِ کفِ پا چاہوں
تُوؐ جو چاہے تو مجھے جنتِ ماویٰ دے دے
وہ جو آسودگی چاہیں، انہیں آسودہ کر
بے قراری کی لطافت، مجھے تنہا دے دے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کُفر نے رات کا ماحول بنا رکھا ہے
میرے سینے میں محمدﷺ کا دِیا رکھا ہے
وہؐ جو مِل جائے، تو بیشک مجھے جنت نہ مِلے
عشق کو اجر کے لالچ سے بچا رکھا ہے
خواب میں وہؐ نظر آئے تو پھر آنکھیں نہ کُھلیں
میں نے مُدت سے یہ منصوبہ بنا رکھا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں کہ بے وقعت و بے مایہ ہوں
تیریﷺ محفل میں چلا آیا ہوں
آج ہوں میں تیراؐ دہلیز نشین
آج میں عرش کا ہم پایہ ہوں
چند پل یوں تیریؐ قربت میں کٹے
جیسے اک عمر گزار آیا ہوں
عشق میں ضبط کا یہ بھی کوئی پہلو ہو گا
جو میری آنکھ سے ٹپکا، تیرا آنسو ہو گا
ایک پل کو تیری یاد آئے تو میں سوچتا ہوں
خواب کے دشت میں بھٹکا ہوا آہُو ہو گا
تجھ کو محسوس کروں، مس نہ مگر کر پاؤں
کیا خبر تھی کہ تو اک پیکرِ خوشبو ہو گا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں کہ بے وقعت و بے مایہ ہوں
تیریﷺ محفل میں چلا آیا ہوں
آج ہوں میں تیرا دہلیز نشین
آج میں عرش کا ہم پایہ ہوں
چند پل یوں تیری قربت میں کٹے
جیسے اک عمر گزار آیا ہوں
شانِ عطا کو، تیری عطا کی خبر نہ ہو
یوں بھیک دے، کہ دستِ گدا کو خبر نہ ہو
چُپ ہوں کہ چُپ کی داد پہ ایمان ہے مِرا
مانگوں دُعا جو میرے خدا کو خبر نہ ہو
کر شوق سے شکایتِ محرومئ وفا
لیکن مِرے غرورِ وفا کو خبر نہ ہو
جاتے ہوئے اک بار تو جی بھر کے رلائیں
ممکن ہے کہ ہم آپ کو پھر یاد نہ آئیں
ہم چھیڑ تو دیں گے ترا محبوب فسانہ
کھنچ آئیں گی فردوس کی مدہوش فضائیں
پھر تشنہ لبی زخم کی دیکھی نہیں جاتی
پھر مانگ رہا ہوں ترے آنے کی دعائیں
تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے
کبھی جھانکا تری آنکھوں میں تو ہم ہی ہم تھے
لمس کے دم سے بصارت بھی، بصیرت بھی ملی
چھو کے دیکھا تو جو پتھر تھے نرے ریشم تھے
تیری یادیں کبھی ہنستی تھیں، کبھی روتی تھیں
میرے گھر کے یہی ہیرے تھے، یہی نیلم تھے
دل میں اترتے حرف سے مجھ کو ملا پتا تِرا
معجزہ حسنِ صوت کا، زمزمہِ صدا ترا
میرا کمال فن، تِرے حسن کلام کا غلام
بات تھی جانفزا تِری، لہجہ تھا دلربا ترا
جاں تِری سر بہ سر جمال! دل تِرا، آئینہ مثال
تجھ کو تِرے عدُو نے بھی دیکھا تو ہو گیا ترا