Showing posts with label نصرت چودھری. Show all posts
Showing posts with label نصرت چودھری. Show all posts

Wednesday, 9 March 2022

قیدی چاندی کے طشت جیسا چاند

قیدی


اونگھتی رات

دبے پاؤں گزرتی چلی جاتی ہے

اور چاندی کے طشت جیسا چاند

نیم کی ٹہنیوں کے درمیاں پھنس گیا ہے

ہوا چلے 

تو ٹہنیاں لچکیں

Wednesday, 2 February 2022

رات بھر میں خواب بن کر اس کی وحشت دیکھتی

 رات بھر میں خواب بن کر اس کی وحشت دیکھتی

کیف الفت میں جو مضمر ہے وہ شدت دیکھتی

اک سلگتی آگ بن کر رہ گیا میرا وجود

آگ جل کر راکھ ہو جاتی تو حدت دیکھتی

معجزہ کچھ یوں ہوا یوسف زلیخا مل گئے

مجھ کو میرا پیار مل جاتا تو قدرت دیکھتی

Wednesday, 19 January 2022

غم کو اک سوغات سمجھ کر گلے لگائیں

 غم


غم کو اک سوغات سمجھ کر

گلے لگائیں

زیست کی اندھی راہگزر پر

چلتے جائیں

جب کے چاروں اور بھکاری

Monday, 17 January 2022

خوابوں کی انجمن میں اجالا نہ ہو سکا

 خوابوں کی انجمن میں اجالا نہ ہو سکا

چاہا تھا پھر بھی آج سویرا نہ ہو سکا

احساس کی رگوں سے ٹپکتا رہا لہو

ہم کو کسی سے پیار دوبارہ نہ ہو سکا

آنسو مِرے مزاج کا حصہ تو بن گئے

جھکنا کسی بھی طور گوارا نہ ہو سکا

Sunday, 16 January 2022

خود فریبی کب تک اپنے آپ کو دھوکا دیتی رہو گی

خود فریبی


کب تک 

اپنی آنکھیں جھکا کر چلتی رہو گی

کب تک

اپنے دل کے دروازے پر دستک نہ دو گی

کب تک

اپنی پلکوں پر جھوٹے خواب سجائے رکھو گی

Wednesday, 6 January 2021

حد درجہ بدعتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے

 حد درجہ بدعتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے

رسمیں عبادتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے

دھرتی کے اس سورگ کا میں ذکر کیا کروں

مظلوم صورتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے

اس سے زیادہ کچھ نہیں اس عہد کی شناخت

چہروں پہ نفرتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے

Tuesday, 5 January 2021

جو بھی چہرے ہیں خون سے تر ہیں

 جو بھی چہرے ہیں خون سے تر ہیں

ہر طرف غم زدہ سے پیکر ہیں

میرے سینے میں ایسے خنجر ہیں

روز محشر سے کیا ڈرتے ہو

میرے آنگن میں سارے محشر ہیں


نصرت چودھری