قیدی
اونگھتی رات
دبے پاؤں گزرتی چلی جاتی ہے
اور چاندی کے طشت جیسا چاند
نیم کی ٹہنیوں کے درمیاں پھنس گیا ہے
ہوا چلے
تو ٹہنیاں لچکیں
قیدی
اونگھتی رات
دبے پاؤں گزرتی چلی جاتی ہے
اور چاندی کے طشت جیسا چاند
نیم کی ٹہنیوں کے درمیاں پھنس گیا ہے
ہوا چلے
تو ٹہنیاں لچکیں
رات بھر میں خواب بن کر اس کی وحشت دیکھتی
کیف الفت میں جو مضمر ہے وہ شدت دیکھتی
اک سلگتی آگ بن کر رہ گیا میرا وجود
آگ جل کر راکھ ہو جاتی تو حدت دیکھتی
معجزہ کچھ یوں ہوا یوسف زلیخا مل گئے
مجھ کو میرا پیار مل جاتا تو قدرت دیکھتی
غم
غم کو اک سوغات سمجھ کر
گلے لگائیں
زیست کی اندھی راہگزر پر
چلتے جائیں
جب کے چاروں اور بھکاری
خوابوں کی انجمن میں اجالا نہ ہو سکا
چاہا تھا پھر بھی آج سویرا نہ ہو سکا
احساس کی رگوں سے ٹپکتا رہا لہو
ہم کو کسی سے پیار دوبارہ نہ ہو سکا
آنسو مِرے مزاج کا حصہ تو بن گئے
جھکنا کسی بھی طور گوارا نہ ہو سکا
خود فریبی
کب تک
اپنی آنکھیں جھکا کر چلتی رہو گی
کب تک
اپنے دل کے دروازے پر دستک نہ دو گی
کب تک
اپنی پلکوں پر جھوٹے خواب سجائے رکھو گی
حد درجہ بدعتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے
رسمیں عبادتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے
دھرتی کے اس سورگ کا میں ذکر کیا کروں
مظلوم صورتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے
اس سے زیادہ کچھ نہیں اس عہد کی شناخت
چہروں پہ نفرتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے
جو بھی چہرے ہیں خون سے تر ہیں
ہر طرف غم زدہ سے پیکر ہیں
میرے سینے میں ایسے خنجر ہیں
روز محشر سے کیا ڈرتے ہو
میرے آنگن میں سارے محشر ہیں
نصرت چودھری