Wednesday, 2 February 2022

رات بھر میں خواب بن کر اس کی وحشت دیکھتی

 رات بھر میں خواب بن کر اس کی وحشت دیکھتی

کیف الفت میں جو مضمر ہے وہ شدت دیکھتی

اک سلگتی آگ بن کر رہ گیا میرا وجود

آگ جل کر راکھ ہو جاتی تو حدت دیکھتی

معجزہ کچھ یوں ہوا یوسف زلیخا مل گئے

مجھ کو میرا پیار مل جاتا تو قدرت دیکھتی

بد کلامی پر وہ نادم ہے مجھے ہوتا یقیں

اس کی آنکھوں میں اگر اک بار خفت دیکھتی

میرے آنسو اس کے لب چھو کر مجھے آواز دیں

کاش محرومی میری اتنی تو فرحت دیکھتی

مجھ کو لگتا خواب جیسے سب حقیقت بن گئے

کچھ دنوں میں پاس رہ کر اس کی الفت دیکھتی

کاش میں اک بار ملتی اس سے پہلے کی طرح

اور پھر اس سے بچھڑ جانے کی لذت دیکھتی

ہارنے کی آرزو میں پیار کا رستہ چنا

جیتنے کی آرزو ہوتی تو نصرت دیکھتی


نصرت چودھری

No comments:

Post a Comment