Labours'-day
ہمیں اپنی تلاش میں
بھیجنے سے پہلے ہماری جیبیں
کاٹ دی جاتی ہیں
ہمارے دل کسی لوہار خانے میں بھیج دیے جاتے ہیں
جسے کسی غیر معمولی کوٹنگ میں چھپا دیا جاتا ہے
جس میں امید کا اگنا ناممکن ہو جاتا ہے
ہماری امیدیں قتل کی جاتی ہیں
آزادی ملنے سے چند سیکنڈ پہلے
ہمارے پر کاٹ دئیے جاتے ہیں
ہمارے پروں سے شٹل کاک بنا دی جاتی ہے
جسے لوٹنے والے
دو مخالف سمتوں میں اچھالتے ہیں
ہماری آنکھیں تب تک گروی رکھی جاتی ہیں
جب تک کوئی نیا خواب
ہماری اجرت کا سبب نہیں بنتا
ایٹمی ہتھیار چمکا کر
ہمارے خواب چھین لئے جاتے ہیں
ہمارے خواب قیمتی ہیں
ان ہتھیاروں سے
ان کے گوداموں میں بھرے بارود سے
ان کی بنائی گئی مشینوں سے
ہمارے وہ دن قیمتی ہیں
اس دن سے جب لیبر ڈے منایا جاتا ہے
اور ہمارے بچے بھوکے سوتے ہیں
زاہد خان
No comments:
Post a Comment