Showing posts with label عثمان ملک. Show all posts
Showing posts with label عثمان ملک. Show all posts

Wednesday, 13 May 2026

لوگ یہ سمجھتے ہیں بیٹیاں پرائی ہیں

 بیٹیاں پرائی ہیں


یہ عجب جہالت ہے

لوگ یہ سمجھتے ہیں 

بیٹیاں پرائی ہیں؟ 

حق انہیں نہیں دینا

بوجھ ہیں یہ کاندھوں کا

کیوں یہ سوچ لیتے ہیں؟ 

Tuesday, 21 April 2026

وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں

 وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں

اداسیاں مجھ کو دان کر کے 

نئے سفر پر نکل گیا ہے

بچھڑ گیا ہے

میں اب ملوں گا اسے وہاں پر

جہاں پہ نفرت رواج ہے نہ زمین والوں کی کوئی سازش

Saturday, 11 March 2023

زر کے لیے ہیں عدل کے دربار بک گئے

 زر کے لیے ہیں عدل کے دربار بک گئے 

حرص و ہوس میں حسن کے سردار بک گئے

سچ کا یہاں پہ کوئی خریدار کب ملا 

جھوٹے تھے جتنے شام تک  اخبار بک گئے

اپنی سیاہ بختی کا عالم وہی رہا 

بکنے جہاں گئے تھے وہ بازار بک گئے

Tuesday, 18 October 2022

تخلیہ دشت پھر آباد کیا جاتا ہے

 تخلیہ! دشت پھر آباد کیا جاتا ہے 

شاہزادی تجھے آزاد کیا جاتا ہے 

جنگ لڑتے ہیں اصولوں سے قبیلے لیکن 

عشق کے نام پہ ٭اپرادھ کیا جاتا ہے 

پھول بھرتے ہیں جو مُرجھائی ہوئی باہوں میں 

ان غلاموں کو بھی آزاد کیا جاتا ہے  

Monday, 29 August 2022

سرزرد عشق ہو گیا دل کے دباؤ میں

 سرزرد عشق ہو گیا دل کے دباؤ میں

تو صاف دھاندلی ہوئی نا اس چُناؤ میں

یہ کانچ تو نہیں ہے یہ شمسی نظام ہے

سب کائنات گھومتی ہے اس گُھماؤ میں

کل شب اُداسیوں نے کیا پھر مجھے طلب

تصویر پیش کی تِری میں نے بچاؤ میں

Friday, 29 April 2022

نفرتوں کے جہان میں یارم

 یارم


نفرتوں کے جہان میں یارم 

ہم جو زندہ ہیں سانس لیتے ہیں 

سب تِرے عشق کی بدولت ہے

عین ممکن جہانِ فانی میں 

ہم رواجوں کی بھینٹ چڑھ جائیں 

Friday, 11 March 2022

سب واجبات پہلے ادا کر دئیے گئے

 سب واجبات پہلے ادا کر دئیے گئے 

سارے اداس لوگ رہا کر دئیے گئے

عالم پناہ حکم کی تعمیل ہو چکی

کاٹے نہیں یہ ہاتھ حنا کر دئیے گئے 

میرٹ کی دھجیاں بھی  اڑائی یہاں گئیں 

انسان تک نہ تھے جو خدا کر دئیے گئے 

Wednesday, 17 March 2021

اس سے پہلے کہ یہ آنسو کہیں ہجرت کر لیں

 اس سے پہلے کہ یہ آنسو کہیں ہجرت کر لیں

آ، کسی روز تِرے غم کی ضیافت کر لیں 

اس نے جاتے ہوئے پُرسے میں یہی بولا تھا 

اب یہ بہتر ہے کہ یادوں پہ قناعت کر لیں

ہم جو تھک ہار کے گاؤں کو کبھی واپس لوٹیں

کیا ہی اچھا ہو گر اس کی زیارت کر لیں

Sunday, 14 March 2021

تمہیں کیوں یہ جنون لگتا ہے

 تمہیں کیوں یہ جنون لگتا ہے 

خواہشوں پر تو خون لگتا ہے

میری رگ رگ میں بس اذیت ہے 

یہ بھی لیکن سکون لگتا ہے

تیرے رائیگاں موسموں کی قسم 

اب دسمبر بھی جون لگتا ہے

Saturday, 13 March 2021

ہم اگلی محبت میں سمجھدار رہیں گے

 ہم اگلی محبت میں سمجھدار رہیں گے

جتنا بھی ہو مخلص کوئی خبردار رہیں گے

اے گاؤں والو! چھتیں کروا لو سب پختہ

برسات کے دن اب تو لگاتار رہیں گے

جو لوگ ہیں عدل و انصاف کے داعی

وہ لوگ میری بستی کے سردار رہیں گے

Thursday, 26 November 2020

کبھی بھی دست محبت پہ پھول آئے نہیں

 کبھی بھی دست محبت پہ پھول آئے نہیں

جو دکھ ہیں میرے تمہیں ٹھیک سے بتائے نہیں

یہ دشت واسی سرابوں میں آب لے آئے

پرائی جھیلوں سے پانی مگر چرائے نہیں

سماجی فاصلے شاید ہمیں جدا کر دیں

کہ ہاتھ ہم نے ملائے تو ہیں، دبائے نہیں

Wednesday, 25 November 2020

بہت وہ ہنستا ہے شخص لیکن مرا ہوا ہے

 بہت وہ ہنستا ہے شخص لیکن مرا ہوا ہے

کسی محبت کی بھینٹ شاید چڑھا ہوا ہے

وہ اک شجر جو محبتوں سے ہرا ہوا ہے

خزاں کے لشکر سے مدتوں وہ لڑا ہوا ہے

کبھی جو پلٹو وفا کے رستوں پہ دیکھ لینا

کوئی جوانی میں لاٹھیوں پر کھڑا ہوا ہے