بیٹیاں پرائی ہیں
یہ عجب جہالت ہے
لوگ یہ سمجھتے ہیں
بیٹیاں پرائی ہیں؟
حق انہیں نہیں دینا
بوجھ ہیں یہ کاندھوں کا
کیوں یہ سوچ لیتے ہیں؟
بیٹیاں پرائی ہیں
یہ عجب جہالت ہے
لوگ یہ سمجھتے ہیں
بیٹیاں پرائی ہیں؟
حق انہیں نہیں دینا
بوجھ ہیں یہ کاندھوں کا
کیوں یہ سوچ لیتے ہیں؟
وہ جس کے ہونے سے رونقیں تھیں
اداسیاں مجھ کو دان کر کے
نئے سفر پر نکل گیا ہے
بچھڑ گیا ہے
میں اب ملوں گا اسے وہاں پر
جہاں پہ نفرت رواج ہے نہ زمین والوں کی کوئی سازش
زر کے لیے ہیں عدل کے دربار بک گئے
حرص و ہوس میں حسن کے سردار بک گئے
سچ کا یہاں پہ کوئی خریدار کب ملا
جھوٹے تھے جتنے شام تک اخبار بک گئے
اپنی سیاہ بختی کا عالم وہی رہا
بکنے جہاں گئے تھے وہ بازار بک گئے
تخلیہ! دشت پھر آباد کیا جاتا ہے
شاہزادی تجھے آزاد کیا جاتا ہے
جنگ لڑتے ہیں اصولوں سے قبیلے لیکن
عشق کے نام پہ ٭اپرادھ کیا جاتا ہے
پھول بھرتے ہیں جو مُرجھائی ہوئی باہوں میں
ان غلاموں کو بھی آزاد کیا جاتا ہے
سرزرد عشق ہو گیا دل کے دباؤ میں
تو صاف دھاندلی ہوئی نا اس چُناؤ میں
یہ کانچ تو نہیں ہے یہ شمسی نظام ہے
سب کائنات گھومتی ہے اس گُھماؤ میں
کل شب اُداسیوں نے کیا پھر مجھے طلب
تصویر پیش کی تِری میں نے بچاؤ میں
یارم
نفرتوں کے جہان میں یارم
ہم جو زندہ ہیں سانس لیتے ہیں
سب تِرے عشق کی بدولت ہے
عین ممکن جہانِ فانی میں
ہم رواجوں کی بھینٹ چڑھ جائیں
سب واجبات پہلے ادا کر دئیے گئے
سارے اداس لوگ رہا کر دئیے گئے
عالم پناہ حکم کی تعمیل ہو چکی
کاٹے نہیں یہ ہاتھ حنا کر دئیے گئے
میرٹ کی دھجیاں بھی اڑائی یہاں گئیں
انسان تک نہ تھے جو خدا کر دئیے گئے
اس سے پہلے کہ یہ آنسو کہیں ہجرت کر لیں
آ، کسی روز تِرے غم کی ضیافت کر لیں
اس نے جاتے ہوئے پُرسے میں یہی بولا تھا
اب یہ بہتر ہے کہ یادوں پہ قناعت کر لیں
ہم جو تھک ہار کے گاؤں کو کبھی واپس لوٹیں
کیا ہی اچھا ہو گر اس کی زیارت کر لیں
تمہیں کیوں یہ جنون لگتا ہے
خواہشوں پر تو خون لگتا ہے
میری رگ رگ میں بس اذیت ہے
یہ بھی لیکن سکون لگتا ہے
تیرے رائیگاں موسموں کی قسم
اب دسمبر بھی جون لگتا ہے
ہم اگلی محبت میں سمجھدار رہیں گے
جتنا بھی ہو مخلص کوئی خبردار رہیں گے
اے گاؤں والو! چھتیں کروا لو سب پختہ
برسات کے دن اب تو لگاتار رہیں گے
جو لوگ ہیں عدل و انصاف کے داعی
وہ لوگ میری بستی کے سردار رہیں گے
کبھی بھی دست محبت پہ پھول آئے نہیں
جو دکھ ہیں میرے تمہیں ٹھیک سے بتائے نہیں
یہ دشت واسی سرابوں میں آب لے آئے
پرائی جھیلوں سے پانی مگر چرائے نہیں
سماجی فاصلے شاید ہمیں جدا کر دیں
کہ ہاتھ ہم نے ملائے تو ہیں، دبائے نہیں
بہت وہ ہنستا ہے شخص لیکن مرا ہوا ہے
کسی محبت کی بھینٹ شاید چڑھا ہوا ہے
وہ اک شجر جو محبتوں سے ہرا ہوا ہے
خزاں کے لشکر سے مدتوں وہ لڑا ہوا ہے
کبھی جو پلٹو وفا کے رستوں پہ دیکھ لینا
کوئی جوانی میں لاٹھیوں پر کھڑا ہوا ہے