تمہیں کیوں یہ جنون لگتا ہے
خواہشوں پر تو خون لگتا ہے
میری رگ رگ میں بس اذیت ہے
یہ بھی لیکن سکون لگتا ہے
تیرے رائیگاں موسموں کی قسم
اب دسمبر بھی جون لگتا ہے
اب کبوتر اداس رہتے ہیں
زہر قاصد کو فون لگتا ہے
دوستا! عشق کی عمارت میں
بس وفا کا ستون لگتا ہے
عثمان ملک
No comments:
Post a Comment