Showing posts with label شاہد عباس. Show all posts
Showing posts with label شاہد عباس. Show all posts

Saturday, 17 September 2022

حضور آپ بنائیں تو بات بنتی ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حضورﷺ آپؐ بنائیں تو بات بنتی ہے

حضورؐ در پہ بلائیں تو بات بنتی ہے

حضورؐ میری خطاؤں کا کچھ شمار نہیں

حضورِ روضہ دکھائیں تو بات بنتی ہے

حضورؐ چاروں طرف سے دکھوں نے گھیرا ہے

حضورؐ مجھ کو بچائیں تو بات بنتی ہے

Tuesday, 28 December 2021

لگے ہیں پھر سے دہرانے وہی باتیں دسمبر کی

 لگے ہیں پھر سے دہرانے وہی باتیں دسمبر کی

سلگتے دن، خفا شامیں، بلا راتیں دسمبر کی

شکستہ دل، تھرکتے لب، برستا آنکھ کا پانی

کہاں ہم بھول پائے ہیں یہ سوغاتیں دسمبر کی

بلا کا سرد لہجہ تھا دسمبر کی طرح ان کا

ہمیں کب راس آئی ہیں ملاقاتیں دسمبر کی

Thursday, 2 December 2021

سوائے میرے ترے میکدے میں کوئی نہیں

 سوائے میرے تِرے مے کدے میں کوئی نہیں

خمار میں تو سبھی ہیں نشے میں کوئی نہیں

میں ایک شخص محبت کے شہر میں تنہا

کہ عمر گزری مِرے قافلے میں کوئی نہیں

وفا کی راہ پہ چلنے کو آ گئے وہ بھی

انہیں خبر ہی نہیں راستے میں کوئی نہیں

Sunday, 28 November 2021

قربان خواہشات پر اپنی انا نہ کی

 قربان خواہشات پر اپنی انا نہ کی

سائل تھے ہم مگر کبھی ہم نے صدا نہ کی

ہم کو وفا کا درس وہ دے کر چلا گیا

خود اپنے آپ سے کبھی جس نے وفا نہ کی

میں تو گناہ گار ہوں،۔ انسان جو ہوا

خاکی نہیں، فرشتہ ہے جس نے خطا نہ کی

Thursday, 25 November 2021

اے گل خزاں کا وقت بھی کچھ تو شمار کر

 اے گل خزاں کا وقت بھی کچھ تو شمار کر

پھر اس کے بعد شوق سے فکرِ بہار کر

دریائے عشق کا بڑا الٹا مزاج ہے

پہلے تو سیکھ ڈوبنا پھر اس کو پار کر

صحرا نواز ہے تِرا محسن تو کیا ہوا

اے دل تو تشنگی کو ذرا ہوشیار کر

Wednesday, 24 November 2021

غم سے آزاد نہ کیوں غم کے یہ مارے ہوں گے

 غم سے آزاد نہ کیوں غم کے یہ مارے ہوں گے

کوئے جاناں کے کسی روز نظارے ہوں گے

دل نہ سمجھا مِری فریاد مخالف ہی رہا

لاکھ سمجھایا محبت میں خسارے ہوں گے

کہکشاؤں میں تو دنیا ہی نئی دیکھی ہے

ہم سمجھتے تھے کہ بس چاند ستارے ہوں گے

Friday, 4 June 2021

مکاں نہیں ہے تو کیا ہے مکین رکھتا ہوں

 مکاں نہیں ہے تو کیا ہے، مکین رکھتا ہوں

میں تیرے ساتھ رہوں گا، یقین رکھتا ہوں

میں آئینہ بھی جو دیکھوں تو رشک آتا ہے

کہ درد چہرے پہ سارے حسین رکھتا ہوں

ہے دوستوں کی ذہانت پہ اتنی حیرت کیوں

ارے میں اپنے عدو بھی ذہین رکھتا ہوں