عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حضورﷺ آپؐ بنائیں تو بات بنتی ہے
حضورؐ در پہ بلائیں تو بات بنتی ہے
حضورؐ میری خطاؤں کا کچھ شمار نہیں
حضورِ روضہ دکھائیں تو بات بنتی ہے
حضورؐ چاروں طرف سے دکھوں نے گھیرا ہے
حضورؐ مجھ کو بچائیں تو بات بنتی ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حضورﷺ آپؐ بنائیں تو بات بنتی ہے
حضورؐ در پہ بلائیں تو بات بنتی ہے
حضورؐ میری خطاؤں کا کچھ شمار نہیں
حضورِ روضہ دکھائیں تو بات بنتی ہے
حضورؐ چاروں طرف سے دکھوں نے گھیرا ہے
حضورؐ مجھ کو بچائیں تو بات بنتی ہے
لگے ہیں پھر سے دہرانے وہی باتیں دسمبر کی
سلگتے دن، خفا شامیں، بلا راتیں دسمبر کی
شکستہ دل، تھرکتے لب، برستا آنکھ کا پانی
کہاں ہم بھول پائے ہیں یہ سوغاتیں دسمبر کی
بلا کا سرد لہجہ تھا دسمبر کی طرح ان کا
ہمیں کب راس آئی ہیں ملاقاتیں دسمبر کی
سوائے میرے تِرے مے کدے میں کوئی نہیں
خمار میں تو سبھی ہیں نشے میں کوئی نہیں
میں ایک شخص محبت کے شہر میں تنہا
کہ عمر گزری مِرے قافلے میں کوئی نہیں
وفا کی راہ پہ چلنے کو آ گئے وہ بھی
انہیں خبر ہی نہیں راستے میں کوئی نہیں
قربان خواہشات پر اپنی انا نہ کی
سائل تھے ہم مگر کبھی ہم نے صدا نہ کی
ہم کو وفا کا درس وہ دے کر چلا گیا
خود اپنے آپ سے کبھی جس نے وفا نہ کی
میں تو گناہ گار ہوں،۔ انسان جو ہوا
خاکی نہیں، فرشتہ ہے جس نے خطا نہ کی
اے گل خزاں کا وقت بھی کچھ تو شمار کر
پھر اس کے بعد شوق سے فکرِ بہار کر
دریائے عشق کا بڑا الٹا مزاج ہے
پہلے تو سیکھ ڈوبنا پھر اس کو پار کر
صحرا نواز ہے تِرا محسن تو کیا ہوا
اے دل تو تشنگی کو ذرا ہوشیار کر
غم سے آزاد نہ کیوں غم کے یہ مارے ہوں گے
کوئے جاناں کے کسی روز نظارے ہوں گے
دل نہ سمجھا مِری فریاد مخالف ہی رہا
لاکھ سمجھایا محبت میں خسارے ہوں گے
کہکشاؤں میں تو دنیا ہی نئی دیکھی ہے
ہم سمجھتے تھے کہ بس چاند ستارے ہوں گے
مکاں نہیں ہے تو کیا ہے، مکین رکھتا ہوں
میں تیرے ساتھ رہوں گا، یقین رکھتا ہوں
میں آئینہ بھی جو دیکھوں تو رشک آتا ہے
کہ درد چہرے پہ سارے حسین رکھتا ہوں
ہے دوستوں کی ذہانت پہ اتنی حیرت کیوں
ارے میں اپنے عدو بھی ذہین رکھتا ہوں