Thursday, 2 December 2021

سوائے میرے ترے میکدے میں کوئی نہیں

 سوائے میرے تِرے مے کدے میں کوئی نہیں

خمار میں تو سبھی ہیں نشے میں کوئی نہیں

میں ایک شخص محبت کے شہر میں تنہا

کہ عمر گزری مِرے قافلے میں کوئی نہیں

وفا کی راہ پہ چلنے کو آ گئے وہ بھی

انہیں خبر ہی نہیں راستے میں کوئی نہیں

یہ زندگی کا سفر امتحان ہے صاحب

سبھی گزار رہے ہیں، مزے میں کوئی نہیں

وجودِ حسرتِ انسان ایک دھوکہ ہے

"سوائے عکس کسی آئینے میں کوئی نہیں"

ہنسی یہ میری اسی واسطے ہے پاگل پن

کہ میرے ساتھ مِرے قہقہے میں کوئی نہیں

تجھے کبھی بھی میں شاہد بھلا نہیں سکتا

تِرے بغیر مِرے حافظے میں کوئی نہیں


شاہد عباس

No comments:

Post a Comment