عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اَن کی شایانِ بلاغت کا نظارا دیکھو
عشقِ حیدرؑ میں محو ہیں آ کنارا دیکھو
کیا نصیبے زمانے کہ وہ سانسیں لیتے
پل ہیں کیا پل یاں صدیوں میں اجارا دیکھو
زندگی ساری گزاری ہے فقر پر مبنی
نور بر چہرۂ وحدت کا اجالا دیکھو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اَن کی شایانِ بلاغت کا نظارا دیکھو
عشقِ حیدرؑ میں محو ہیں آ کنارا دیکھو
کیا نصیبے زمانے کہ وہ سانسیں لیتے
پل ہیں کیا پل یاں صدیوں میں اجارا دیکھو
زندگی ساری گزاری ہے فقر پر مبنی
نور بر چہرۂ وحدت کا اجالا دیکھو
لکھ رہا ہوں نصاب خاموشی
ہو گی آج بے نقاب خاموشی
کرے جو کوئی سوال نفرت
ہے سب سے بہتر جواب خاموشی
جو چاہو نفرت کا حساب چکانا
تو پھر کرو بے حساب خاموشی
زلفیں وہ نرم رات سی بکھری ہیں ناز سے
اور رات میں ستارے نگہ دلنواز کے
تاروں کے آس پاس ہیں چندا سے گال دو
چندا کے درمیان وہ نقطے سے خال دو
اور گال کے کنارے گلابی گلاب سے
دو ہونٹ تو نہیں یہ ہیں پیالے شراب کے
انجام
کاہنہ
نے مقدس تھڑے پر کھڑے
ایک آواز دی
جرم ثابت ہوا
مجرموں کی سزاؤں کا کالا صحیفہ کھلا
ایک ہرنی چِلاتی ہوئی