مِرے بغیر اگر انتظام چلتا ہے
تم اپنا تخت سنبھالو، غلام چلتا ہے
ہم ایسے سر پھرے کب اس کو مان سکتے ہیں
جو حکمِ شاہ یہاں صبح شام چلتا ہے
فضائے عمر کبھی اتنی سوگوار نہ تھی
کِھلے ہیں پھول نہ ہی دورِ جام چلتا ہے
مِرے بغیر اگر انتظام چلتا ہے
تم اپنا تخت سنبھالو، غلام چلتا ہے
ہم ایسے سر پھرے کب اس کو مان سکتے ہیں
جو حکمِ شاہ یہاں صبح شام چلتا ہے
فضائے عمر کبھی اتنی سوگوار نہ تھی
کِھلے ہیں پھول نہ ہی دورِ جام چلتا ہے
دل بھلا عارضی خوشیوں میں کہاں لگتا ہے
اب تو ہر درد ہمیں نشۂ جاں لگتا ہے
یہ زیارت گہِ حسرت ہے ذرا دھیان رہے
ان پہاڑوں پہ تو بادل بھی دھواں لگتا ہے
بس اسی واسطے رہتا ہوں میں مصروفِ معاش
کارِ دل، سلسلۂ سود و زیاں لگتا ہے
اک نہ اک موسمِ امکان چلا آتا ہے
ہجر جاتا ہے تو مہمان چلا آتا ہے
لوگ لاتے ہیں اسیری کی فقط یادیں گھر
مِرے ہمراہ تو زندان چلا آتا ہے
بار برداری پہ مامور ہوا ہوں جب سے
ہر کوئی بے سر و سامان چلا آتا ہے
ہار کے نسخۂ تسخیر سمجھ لیتے ہیں
اب مخالف میری تدبیر سمجھ لیتے ہیں
ہم وہ احساس کا احسان اٹھائے ہوئے لوگ
جو تعلق کو ہی زنجیر سمجھ لیتے ہیں
کچھ بتائیں گے میری آنکھ میں چھالوں کا جواز
آپ تو خواب کی تعبیر سمجھ لیتے ہیں
رُت ہو برہم بھی سرِ دست نہیں لگتا ہے
کچھ درختوں کو سدا بخت نہیں لگتا ہے
بیٹھ جاتے ہیں جہاں چاہے مناجات لیے
ہم فقیروں کے لیے تخت نہیں لگتا ہے
بات ہی عشق میں بنتی ہے بگڑ جانے سے
یہ وہ مرہم ہے جو بر وقت نہیں لگتا ہے
عشق میں فرصتِ مسلک نہیں دی جاتی ہے
آگ ہے آگ کو ٹھنڈک نہیں دی جاتی ہے
دھوپ میں جلتے درختوں کو دعا دے جاؤ
ان کے سر پر کوئی اجرک نہیں دی جاتی ہے
اس لیے دُکھ نہیں آتا ہے بتا کر کوئی
گھر جو اپنا ہو تو دستک نہیں دی جاتی ہے
جب توجہ کوئی ماحول سے ہٹ جاتی ہے
آئینہ ٹوٹتا ہے، روشنی گھٹ جاتی ہے
لوٹ آتا ہوں کہیں چھوڑ کے ویرانے میں
زندگی دوڑ کے آتی ہے، لپٹ جاتی ہے
اس لیے جاگنا پڑتا ہے بہر حال مجھے
آنکھ لگتے ہی یہ دنیا بھی سمٹ جاتی ہے
آشنائی کا اثاثہ بھی بہت ہوتا ہے
بھیڑ میں ایک شناسا بھی بہت ہوتا ہے
تم کو تفصیل میں جانے کی ضرورت ہی نہیں
دکھ بڑا ہو تو خلاصہ بھی بہت ہوتا ہے
ہم بھی کیا لوگ ہیں سب جھولیاں بھر لاتے ہیں
بے یقینی کا تو ماسہ بھی بہت ہوتا ہے
کوئی پوچھ لے تو کہنا، مِرا حال اب کہ یوں بے
نہ کسی کی آرزو ہے، نہ کسی کا اب جنوں ہے
میں کنارِ دل پہ بیٹھا، یہی خود سے پوچھتا ہوں
کہاں رہ گئے تلاطم بڑی دیر سے سکوں ہے
مجھے چارہ گر نہیں ہے کوئی تجھ سے بھی شکایت
کوئی زخم ظاہری تھا،۔ کوئی زخم اندروں ہے
محوِ دنیا ہیں سو، ناشاد نہیں رہتے ہیں
ورنہ خوش ہم بھی تِرے بعد نہیں رہتے ہیں
سرحدی شہروں کے جیسے ہیں دلوں کے گوشے
بس بھی جائیں تو یہ آباد نہیں رہتے ہیں
اس لیے سانحہ ہر عشق میں لازم ہے کوئی
خواب اچھے ہوں تو پھر یاد نہیں رہتے ہیں
ہوا سے دھند کا جیسے حصار ٹوٹتا ہے
یہ زعمِ دل بھی سرِ کوئے یار ٹوٹتا ہے
کبھی کبھی مجھے ہوتی ہے دشمنوں کی طلب
کبھی کبھی تو کوئی اعتبار ٹوٹتا ہے
وہیں پہ آنکھ خیالوں کو گانٹھ دیتی ہے
جہاں پہ خواب کے آنچل کا تار ٹوٹتا ہے
کب جدائی کا، یا ملاپ کا ہے
ربط جو پانیوں سے بھاپ کا ہے
دل کو لاحق تو اور بھی ہیں کئی
درد جو آپ کا ہے، آپ کا ہے
یہ تو آذر کو علم تھا ہی نہیں
بت کسی دیوتا کے ماپ کا ہے
طنابِ کرب نہ خارِ ملال کھینچتا ہے
وہ اب چھوئے بھی تو لگتا ہے کھال کھینچتا ہے
کسی کے درد کے دریا میں ڈوبنے والو
مچھیرا وہ ہے جو پانی سے جال کھینچتا ہے
تمہارا ہجر کسی شرٹ کے بٹن کی طرح
کبھی کبھی مرے سینے کے بال کھینچتا ہے