Showing posts with label ضمیر قیس. Show all posts
Showing posts with label ضمیر قیس. Show all posts

Friday, 7 April 2023

مرے بغیر اگر انتظام چلتا ہے

 مِرے بغیر اگر انتظام چلتا ہے

تم اپنا تخت سنبھالو، غلام چلتا ہے

ہم ایسے سر پھرے کب اس کو مان سکتے ہیں

جو حکمِ شاہ یہاں صبح شام چلتا ہے

فضائے عمر کبھی اتنی سوگوار نہ تھی

کِھلے ہیں پھول نہ ہی دورِ جام چلتا ہے

Wednesday, 5 April 2023

دل بھلا عارضی خوشیوں میں کہاں لگتا ہے

 دل بھلا عارضی خوشیوں میں کہاں لگتا ہے

اب تو ہر درد ہمیں نشۂ جاں لگتا ہے

یہ زیارت گہِ حسرت ہے ذرا دھیان رہے

ان پہاڑوں پہ تو بادل بھی دھواں لگتا ہے

بس اسی واسطے رہتا ہوں میں مصروفِ معاش

کارِ دل، سلسلۂ سود و زیاں لگتا ہے

Monday, 3 April 2023

اک نہ اک موسم امکان چلا آتا ہے

 اک نہ اک موسمِ امکان چلا آتا ہے

ہجر جاتا ہے تو مہمان چلا آتا ہے

لوگ لاتے ہیں اسیری کی فقط یادیں گھر

مِرے ہمراہ تو زندان چلا آتا ہے

بار برداری پہ مامور ہوا ہوں جب سے

ہر کوئی بے سر و سامان چلا آتا ہے

Saturday, 1 April 2023

ہار کے نسخۂ تسخیر سمجھ لیتے ہیں

 ہار کے نسخۂ تسخیر سمجھ لیتے ہیں

اب مخالف میری تدبیر سمجھ لیتے ہیں

ہم وہ احساس کا احسان اٹھائے ہوئے لوگ

جو تعلق کو ہی زنجیر سمجھ لیتے ہیں

کچھ بتائیں گے میری آنکھ میں چھالوں کا جواز

آپ تو خواب کی تعبیر سمجھ لیتے ہیں

Friday, 31 March 2023

رت ہو برہم بھی سر دست نہیں لگتا ہے

 رُت ہو برہم بھی سرِ دست نہیں لگتا ہے

کچھ درختوں کو سدا بخت نہیں لگتا ہے

بیٹھ جاتے ہیں جہاں چاہے مناجات لیے

ہم فقیروں کے لیے تخت نہیں لگتا ہے

بات ہی عشق میں بنتی ہے بگڑ جانے سے

یہ وہ مرہم ہے جو بر وقت نہیں لگتا ہے

Friday, 17 March 2023

عشق میں فرصت مسلک نہیں دی جاتی ہے

 عشق میں فرصتِ مسلک نہیں دی جاتی ہے

آگ ہے آگ کو ٹھنڈک نہیں دی جاتی ہے

دھوپ میں جلتے درختوں کو دعا دے جاؤ

ان کے سر پر کوئی اجرک نہیں دی جاتی ہے

اس لیے دُکھ نہیں آتا ہے بتا کر کوئی

گھر جو اپنا ہو تو دستک نہیں دی جاتی ہے

Wednesday, 15 February 2023

جب توجہ کوئی ماحول سے ہٹ جاتی ہے

 جب توجہ کوئی ماحول سے ہٹ جاتی ہے

آئینہ ٹوٹتا ہے، روشنی گھٹ جاتی ہے

لوٹ آتا ہوں کہیں چھوڑ کے ویرانے میں

زندگی دوڑ کے آتی ہے، لپٹ جاتی ہے

اس لیے جاگنا پڑتا ہے بہر حال مجھے

آنکھ لگتے ہی یہ دنیا بھی سمٹ جاتی ہے

Tuesday, 3 May 2022

آشنائی کا اثاثہ بھی بہت ہوتا ہے

 آشنائی کا اثاثہ بھی بہت ہوتا ہے

بھیڑ میں ایک شناسا بھی بہت ہوتا ہے

تم کو تفصیل میں جانے کی ضرورت ہی نہیں

دکھ بڑا ہو تو خلاصہ بھی بہت ہوتا ہے

ہم بھی کیا لوگ ہیں سب جھولیاں بھر لاتے ہیں

بے یقینی کا تو ماسہ بھی بہت ہوتا ہے

Friday, 4 February 2022

کوئی پوچھ لے تو کہنا مرا حال اب کہ یوں بے

 کوئی پوچھ لے تو کہنا، مِرا حال اب کہ یوں بے

نہ کسی کی آرزو ہے، نہ کسی کا اب جنوں ہے

میں کنارِ دل پہ بیٹھا، یہی خود سے پوچھتا ہوں

کہاں رہ گئے تلاطم بڑی دیر سے سکوں ہے

مجھے چارہ گر نہیں ہے کوئی تجھ سے بھی شکایت

کوئی زخم ظاہری تھا،۔ کوئی زخم اندروں ہے

Sunday, 5 December 2021

محو دنیا ہیں سو ناشاد نہیں رہتے ہیں

 محوِ دنیا ہیں سو، ناشاد نہیں رہتے ہیں

ورنہ خوش ہم بھی تِرے بعد نہیں رہتے ہیں

سرحدی شہروں کے جیسے ہیں دلوں کے گوشے

بس بھی جائیں تو یہ آباد نہیں رہتے ہیں

اس لیے سانحہ ہر عشق میں لازم ہے کوئی

خواب اچھے ہوں تو پھر یاد نہیں رہتے ہیں

Saturday, 6 February 2021

ہوا سے دھند کا جیسے حصار ٹوٹتا ہے

 ہوا سے دھند کا جیسے حصار ٹوٹتا ہے

یہ زعمِ دل بھی سرِ کوئے یار ٹوٹتا ہے

کبھی کبھی مجھے ہوتی ہے دشمنوں کی طلب

کبھی کبھی تو کوئی اعتبار ٹوٹتا ہے

وہیں پہ آنکھ خیالوں کو گانٹھ دیتی ہے

جہاں پہ خواب کے آنچل کا تار ٹوٹتا ہے

Wednesday, 3 February 2021

کب جدائی کا یا ملاپ کا ہے

 کب جدائی کا، یا ملاپ کا ہے

ربط جو پانیوں سے بھاپ کا ہے

دل کو لاحق تو اور بھی ہیں کئی

درد جو آپ کا ہے، آپ کا ہے

یہ تو آذر کو علم تھا ہی نہیں

بت کسی دیوتا کے ماپ کا ہے

Friday, 27 November 2020

طناب کرب نہ خار ملال کھینچتا ہے

 طنابِ کرب نہ خارِ ملال کھینچتا ہے

وہ اب چھوئے بھی تو لگتا ہے کھال کھینچتا ہے

کسی کے درد کے دریا میں ڈوبنے والو

مچھیرا وہ ہے جو پانی سے جال کھینچتا ہے

تمہارا ہجر کسی شرٹ کے بٹن کی طرح

کبھی کبھی مرے سینے کے بال کھینچتا ہے