دل بھلا عارضی خوشیوں میں کہاں لگتا ہے
اب تو ہر درد ہمیں نشۂ جاں لگتا ہے
یہ زیارت گہِ حسرت ہے ذرا دھیان رہے
ان پہاڑوں پہ تو بادل بھی دھواں لگتا ہے
بس اسی واسطے رہتا ہوں میں مصروفِ معاش
کارِ دل، سلسلۂ سود و زیاں لگتا ہے
وقت کے ساتھ تغیر میں ہے اشیاء کا وجود
دیکھنے والوں کو مجمع بھی رواں لگتا ہے
رب کو رکھتا ہوں تبھی حیطۂ ادراک سے دور
جو مجھے وہم نہیں لگتا، گماں لگتا ہے
عمر بڑھتی ہے تو اشجار گھنے ہوتے ہیں
باپ بوڑھا بھی اگر ہو تو جواں لگتا ہے
آپ اس لمس کی تاثیر نہیں سمجھیں گے
مجھ کو معلوم ہے مرہم یہ جہاں لگتا ہے
ایسے عالم میں ترا قرب میسر ہے مجھے
جس میں سوکھا ہوا جوہڑ بھی کنواں لگتا ہے
شہر کا شہر ہی بکنے کو ہے تیار ضمیر
میں نے پوچھا تھا کہ بازار کہاں لگتا ہے
ضمیر قیس
ضمیر حسن
No comments:
Post a Comment